کل موبائل فون پر عائد پی ٹی اے ٹیکس میں ممکنہ طور پر بڑی کمی یا اس کے مکمل خاتمے کا اعلان متوقع ہے۔
یہ پیشرفت پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک قرارداد کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں موبائل فونز پر بھاری امپورٹ ڈیوٹیز، سیلز ٹیکس اور رجسٹریشن فیس سے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے پر فائنانس کمیٹی میں بحث کی جائے گی، جس سے بڑے پالیسی فیصلے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
قاسم گیلانی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ پی ٹی اے ٹیکس عوام کیلئے خاص طور پر طلبہ اور متوسط طبقے کے لیے موبائل فون خریدنا انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں اسمارٹ فون کوئی عیاشی نہیں بلکہ تعلیم، کاروبار، آن لائن بینکنگ اور ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کے لیے بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ قرارداد غیر منصفانہ پی ٹی اے ٹیکس کے خلاف جمع کرائی ہے، اور حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ 3 دسمبر کی کمیٹی میٹنگ میں اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔
فائنانس کمیٹی کے اس جائزے کو تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے اراکین کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جو اس معاملے پر ایک کم یاب سیاسی اتفاقِ رائے کی نشاندہی کرتا ہے۔ گیلانی نے قرارداد پر مزید کارروائی مؤخر کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ کمیٹی پی ٹی اے ٹیکس نظام کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے دوبارہ ترتیب دے گی۔
ٹیکنالوجی ماہرین اور صارفین نے پی ٹی اے ٹیکس میں ممکنہ کمی یا خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس سے ٹیک سیکٹر، طلبہ اور چھوٹے کاروبار موبائل ڈیوائسز تک آسان اور سستی رسائی حاصل کر سکیں گے۔ تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے حکومت کی آمدن اور موبائل ڈیوائسز کی امپورٹ/ایکسپورٹ پالیسی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگر یہ فیصلے نافذ ہو جاتے ہیں، تو پی ٹی اے ٹیکس میں کمی یا خاتمہ ملک میں ڈیجیٹل شمولیت بڑھانے اور اسمارٹ فون کی رسائی آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا جو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہو سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








