پاک افغان سرحد پر چپقلش۔۔۔ لڑنا مرنا کب تک؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جب تک افغان حکومت دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کی روک تھام کی پختہ یقین دہانی نہ کروائے، اس وقت تک پاک افغان سرحد بند رہے گی اور سرحد پار سے دہشت گردی کا بھی سخت جواب دیا جائے گا۔

آج 5 دسمبر کو ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ صرف ٹی ٹی پی ہی نہیں بلکہ کچھ افغان شہری بھی پاکستان میں سنگین جرائم میں ملوث رہے۔ افغانستان سے سرحد کی بندش پاکستان نے اپنی حفاظت کیلئے کی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کے شہریوں پر کشت و خون کا سلسلہ جاری رہے۔

دوسری جانب افغان   حکومت نے بھی عندیہ دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی   راستے بے شک بند رہیں، ہمارے پاس اس کا متبادل راستہ موجود ہے۔حقیقتِ حال یہ ہے کہ یہ صورتِ حال اگر برقرار رہتی ہے تو اس کے سب سے زیادہ اور سب سے بھاری اثرات محکوم افغان باشندوں کو ہی برداشت کرنا پڑیں گے۔ پاکستان کو سرحدی بندش کا فیصلہ اپنی سلامتی اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا ہی پڑا کیونکہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا ، اور یہ فیصلہ عین بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق سمجھا جاتا ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی سرزمین پر دہشت گردی یا غیرقانونی دراندازی  برداشت نہیں کر سکتا۔ افغان حکومت اگر پاکستان کی سرزمین پر حملہ آور گروہوں کی روک تھام میں سنجیدہ یقین دہانیاں فراہم نہیں کرتی تو زمینی حقائق کے مطابق پاکستان کے پاس بارڈر مینجمنٹ  میں تلخی و سختی کے ساتھ ساتھ جوابی کارروئی  کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں بچتا۔  ایسی صورتحال میں افغانستان پہلے ہی معاشی عدم استحکام، داخلی بے روزگاری اور عالمی سطح پر محدود سفارتی تعلقات جیسے مسائل میں گھرا ہوا ہے، جن پر سرحدی بندش  کے مزید دباؤ سے افغانستان میں بھوک اور افلاس کا رقص مزید تیز ہوجائے گا۔

ظاہر ہے کہ اقتصادی اعتبار سے بھی نقصان کا بڑا بوجھ افغانستان کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کی منڈیوں تک رسائی محدود اور متبادل راستوں کے سبب افغان تاجروں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں جس کے بار تلے عام عوام دبتی جارہی ہے ، جبکہ وسطی  ایشیا اور بیرونی دنیا کے ساتھ افغان تجارت کے زیادہ تر راستے پاکستان پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ اب اگر پاکستان اپنی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے سرحدوں پر بند ش جاری رکھتا ہے تو افغانستان کیلئے متبادل راستے نہ صرف طویل اور مہنگے ہوں گے بلکہ ان میں سیاسی، سفری اور لاجسٹک پیچیدگیاں بھی زیادہ ہونگی۔ دوسری جانب پاکستان کے پاس گوادر اور بندرگاہی سہولیات جیسے آپشنز موجود ہیں، جبکہ افغانستان نہ تو سمندر تک رسائی رکھتا ہے اور نہ ہی ایسے متبادل راستے جہاں سے اس کی تجارت بغیر رکاوٹ جاری رہ سکے۔ اس لیے اگر کشیدگی برقرار رہی تو افغانستان پر اس کے دور رس معاشی اور سماجی اثرات پڑیں گے۔

اگر پاک افغان تجارت کا تجزیہ کیا جائے تو 2021 میں طالبان کی کابل پر حکومت کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی حجم تقریباً ڈیڑھ ارب سے بڑھ کر دو ارب ڈالرز تک پہنچ گیا۔ پاکستان کی اپنے پڑوسی ملک کو برآمدات زیادہ رہیں جس کی وجہ سے حکام کے مطابق اس کا اس دو ارب ڈالرز کی تجارت میں حصہ 1.4 ارب ڈالرز ہے۔پاکستان جو چیزیں فروخت کرتا ہے ان میں خوراک جیسے کہ چاول اور گندم سرفہرست تھیں، جس کے بعد ادویات اور سیمنٹ جیسا سامان بھیجا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب افغانستان پاکستان میں کوئلہ، کاٹن، فروٹ اور سبزیاں بھیجتا ہے۔ افغانستان کا پاکستان پر ٹرانزٹ ٹریڈ کی وجہ سے بھی بہت زیادہ انحصار ہے۔سال 2023 میں پاکستان کی افغانستان کو برآمدات کا حجم 1.07ارب ڈالرز تھا جو 2024میں بڑھ کر 1.39ارب ڈالرز ہوگیا۔

البتہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا ماننا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بندش سے پاکستان کو ہی فائدہ ہے کیونکہ یہ سامان اسمگل ہو کر اکثر پاکستان واپس پہنچ جاتا ہے۔افغانستان کے نائب افغان وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر نے اب افغان صعنت کاروں اور تاجروں سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی بجائے متبادل تجارتی منڈیاں تلاش کریں۔

جنگ نیوز میں 23نومبر کو شائع خبر کے مطابق پاک افغان سرحد کی بندش سے افغان معیشت پر منفی اثرات نمایاں ہونے لگے۔افغان میڈیا کے مطابق پاکستان سے سرحدی بندش سے افغانستان میں بنیادی اشیاء کی قیمتیں غیرمعمولی حد تک بڑھ گئیں۔افغان عوام کا کہنا ہے کہ بنیادی غذائی اشیاء اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، غریب کیسے گزارا کرے؟ افغان چیمبر آف کامرس نے کہا کہ ہر ماہ سرحد کی بندش سے تقریباً 200 ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، پاکستان پر تجارتی انحصار کی بدولت سرحدی بندش سے افغانستان کو سب سے زیادہ اور ناقابل برداشت نقصان ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں سردیوں کے دوران افغان عوام کی زندگی مزید مشکل بنا سکتی ہیں، اگر پاک افغان سرحد جلد نہیں کھلی تو افغانستان کے عام عوام جن سے پاکستان کی عوام رغبت اور محبت رکھتی ہے اور جن سے پاکستانی اور افغانی عوام کی قدر یں کئی اعتبار سے مشترک ہیں، اس صورتحال کا فائدہ بھارت جیسے دشمن بخوبی اٹھاتے جارہے ہیں ۔ اگر صورتحال کو جلد درست نہ کیا گیا تو افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے، جس کا کہ دونوں ممالک زیادہ عرصے تک متحمل نہیں ہوسکتے۔

Related Posts