محبت کے جال میں نہیں پھنسی تو جینے کا حق چھین لیا؟ اسکول ٹیچر کا خوفناک انتقام

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

بھارتی ریاست بہار کے ضلع ارریہ دلخراش واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے جہاں اسکول کی جانب رواں دواں 24 سالہ خاتون اسکول ٹیچر شوانی کماری ورما کو دو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔مقتولہ گزشتہ دو سال سے ارریہ کے مڈل اسکول کنہیلی میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔

پولیس کے مطابق اسکول ٹیچر شوانی اپنی اسکوٹی پر اسکول جا رہی تھیں کہ شِو مندر کے قریب دو بائیک سواروں نے ان کا پیچھا کیا۔ ملزمان نے اسکوٹی رکوائی اور ہیلمٹ اتارنے کو کہا جیسے ہی شوانی نے ہیلمٹ ہٹایا حملہ آوروں نے قریب سے مسلسل گولیاں چلا دیں۔ شوانی موقع پر ہی دم توڑ گئیں جبکہ قاتل بائیک پر فرار ہو گئے۔

پولیس نے افسوسناک واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔

اہل خانہ کے سنگین الزامات

مقتولہ شوانی کی بڑی بہن جولی نے الزام لگایا کہ اسکول کے ایک ٹیچر رنجیت گزشتہ ایک سال سے شوانی پر یک طرفہ محبت کے نام پر شادی کا دباؤ ڈالتا تھا۔ شوانی نے اس رشتے سے صاف انکار کر دیا تھا مگر رنجیت کے شادی شدہ ہونے کے باوجود اس کی جانب سے مسلسل ذہنی اذیت کا سلسلہ تھم نہ سکا۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ رنجیت نے شادی سے انکار کا بدلہ لینے کے لیے اس قتل کی سازش رچی ہو سکتی ہے۔

اسکول پرنسپل پر بھی شبہ

اہخانہ نے دعویٰ کیا کہ شوانی کی شکایت کے باوجود اسکول کے پرنسپل امیش کُشواہا ہمیشہ رنجیت کا ساتھ دیتے رہے۔ کچھ دن پہلے شوانی نے چھٹیوں کی درخواست دی جسے پرنسپل نے منظور نہیں کیا بعد میں معاملہ ڈی ای او تک پہنچا تو انہوں نے پرنسپل کی سرزنش بھی کی۔ خاندان کو شبہ ہے کہ پرنسپل نے اسی رنجش میں اس واردات میں کردار ادا کیا ہوگا۔

شوانی کماری کا پس منظر

شوانی کماری کا تعلق یوپی کے بارہ بنکی ضلع کے ہیدر گڑھ علاقے سے تھا۔ ان کی دو بہنیں بھی بہار میں بی پی ایس سی کے ذریعہ بحال ہوئی تھیں بڑی بہن جولی کماری پٹنہ میں اور دوسری بہن سمستی پور میں تعینات ہیں۔ شوانی کی پوسٹنگ ارریہ میں ہوئی تھی اور وہ تنِ تنہا رہ کر نوکری کے ساتھ ساتھ یو پی ایس سی کی تیاری بھی کر رہی تھیں۔

شوانی کی روزمرہ زندگی اور پولیس تفتیش

شوانی پہلے مہارانا پرتاپ چوک کے قریب ایک کرائے کے مکان میں رہتی تھیں بعد میں اسپتال روڈ پر منتقل ہو گئیں۔ وہ روزانہ صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے اسکوٹی پر اسکول جاتی تھیں اور شام کو واپس آتی تھیں۔ فارغ وقت میں وہ اپنے کمرے میں مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرتی رہتی تھیں۔

پولیس نے ان کے کمرے سے یو پی ایس سی اور دیگر امتحانات کی کتابیں میگزین اور نوٹس ضبط کیے ہیں جبکہ ان کا موبائل فون بھی تفتیش کے لیے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

Related Posts