جب عزیز میاں نے خانہ کعبہ میں سامعین کو اپنی آواز سے سحر زدہ کردیا! جانیں عظیم قوال کی خوبصورت داستان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی قوال عزیز میاں کی 25ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ عزیز میاں ایران کے دارالحکومت تہران میں 6 دسمبر 2000 میں انتقال کر گئے۔ قوال عزیز میاں ایرانی حکومت کی دعوت پر مولا علی رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت کے موقع پر منعقد تقریب میں نذرانہ عقیدت پیش کرنے گئے تھے جہاں معمولی علالت کے بعد ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

پیدائش اور تعلیم؛

عزیز میاں کا اصل نام عبدالعزیز تھا اور وہ 17 اپریل 1942 کو برطانوی ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد 1947 میں ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر کے لاہور آ بسا۔ بچپن غربت میں گزرا مگر تعلیم پر توجہ رکھی۔ انہوں نے اردو ادب، عربی اور فارسی میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ نہ صرف اردو بلکہ فارسی، عربی، ہندو فلسفہ اور دیگر مذاہب کی مقدس کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے تھے۔انہوں نے باقاعدگی سے 16 سال تک ہارمونیم اور گائیکی کی تربیت حاصل کی جہاں استاد عبدالواحد خان اور دیگر اساتذہ نے ان کی آواز کو سنوارا۔

فن کی داستان: قوالی کی دنیا میں انقلاب

عزیز میاں کی فنکارانہ زندگی کا آغاز لاہور کے داتا گنج بخش مزار سے ہوا جہاں وہ ہر جمعرات نعت اور قوالی گاتے تھے۔ شروع میں درخت کے نیچے بیٹھ کر پرفارم کرتے مگر جلد ہی ان کی آواز نے لوگوں کو اپنی جانب کھینچ لیا۔ 1966 میں ایران کے جشن ہنرمندان عالم میں شاہ محمد رضا پہلوی کے سامنے پرفارم کر کے گولڈ میڈل جیتا اور پرسیپولیس کی تقریبات میں شرکت کی۔ 1970 کی دہائی میں ہندوستان، ابوظہبی، بحرین اور دیگر ممالک کا دورہ کیا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1976 میں اسلام آباد بلایا۔ 1979 کی ایرانی انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی کی فرمائش پر ایران گئے اور ان سے خصوصی تحفہ وصول کیا۔ 1983 میں مکہ میں کعبہ کے قریب قوالی کی اجازت ملی جو تاریخی تھی۔ 1990 کی دہائی میں امریکہ، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ کے دورے کیے،1993-94 میں نصرت فتح علی خان کے ساتھ پرفارم کیا۔ وہ واحد قوال تھے جو اپنے کلام خود لکھتے تھے جیسے “ہشر کے روز یہ پوچھوں گا (دنیا کی سب سے طویل قوالی، 115 منٹ سے زائد، گنیز بک میں درج) اللہ ہی جانے کون بشر ہے اور جنت مجھے ملے نہ ملے۔ انہوں نے علامہ اقبال، قمر جلالوی، جگر مراد آبادی اور قتیل شفائی جیسے شاعروں کی غزلیں بھی گائیں۔

ایک لازوال میراث

عزیز میاں کو حکومت پاکستان نے 1989 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا جو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے پیش کیا۔ شاہ ایران محمد رضا پہلوی نے 1966 میں گولڈ میڈل دیا۔ آیت اللہ خمینی نے ایرانی انقلاب کے بعد چاندی کا پلاک تحفہ کیا۔ جنرل یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں خصوصی طور پر بلایا اور تعریف کی۔ صابری برادران کے مقبول احمد صابری نے ان کی 1995 کی سوانح حیات کے لیے پیش لفظ لکھا جس میں ان کی عقیدت اور فن کی تعریف کی۔ 2000 میں ایران میں آخری پرفارمنس کے بعد ایرانی تنظیم نے امام رضا کے نام کندہ سونے کے سکے دیئے۔

عزیز میاں کی میت پاکستان واپس لا کر ملتان میں ان کے روحانی مرشد طوطن والی سرکار کے مزار کے قریب کی گئی۔ عزیز میاں کی آواز آج بھی قوالی کی دنیا میں گونجتی ہے جو روح کو چھو لینے والی غزلوں اور قوالیوں سے بھری پڑی ہے۔ان کی میراث پاکستان کی ثقافتی دولت ہے، جو نسل در نسل جاری رہے گی۔

Related Posts