ماں باپ نے بیٹی کو قتل کردیا، زیادتی اور شادی سے انکار پر قتل کے ملزمان بری، خاتون نے خود کو آگ لگالی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: آن لائن)

پنجاب کے مختلف شہروں میں مختلف افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں، ماں باپ نے بیٹے کی خواہش میں بیٹی قتل کرڈالی، شادی سے انکار پر قتل کا ملزم بری ہوگیا اور زیادتی سے قتل کے ملزم کے بری ہونے پر خاتون نے خود کو آگ لگالی۔

تفصیلات کے مطابق قصور میں خاتون نے 2022 میں پولیس کانسٹیبل رفیق کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کرایا تھا، عدالت نے ڈی این اے میچ نہ ہونے کی بنیاد پر ملزم کو مقدمے سے بری کردیا۔ خاتون نے اپیل کرنے کی بجائے خود کو پیٹرول چھڑک کر خودسوزی کی کوشش کی جسے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

متعلقہ ڈی پی او نے ایس پی انوسٹی گیشن کے ذریعے واقعے کی تحقیقات شروع کروا دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کانسٹیبل رفیق کو نوکری سے برخاست کردیا گیا تھا، تفتیشی افسر کی ملی بھگت ثابت ہوئی تو محکمانہ اور قانونی کارروائی کریں گے۔

ایک اور واقعے میں میانوالی میں بیٹے کے خواہش مند والدین نے 2 ماہ کی بچی کو پانی کی ٹنکی میں ڈبو کر قتل کردیا۔ واقعے کا مقدمہ درج کرکے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ بچی کی والدہ فرار ہوگئی۔ یہ واقعہ میانوالی کے علاقے کینانوالہ میں پیش آیا۔

والدین نے 2 روز قبل ہی 2 ماہ کی بچی کو پانی کی ٹنکی میں پھینک دیا جو ڈوب کر جاں بحق ہوگئی تھی۔ پولیس نے بچی کے والد کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے بچی کے جسم سے لیے گئے نمونوں کو فارنزک معائنے کیلئے لاہور بھیج دیا۔ رپورٹ سے موت کی اصل وجہ کا علم ہوسکے گا۔

ایک اور واقعے میں لاہور ہائیکورٹ نے شادی سے انکار کرنے پر لڑکی کو قتل کردینے کے الزام میں گرفتار ملزم کی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس شہرام سرور اور جسٹس سردار علی اکبر ڈوگر نے ملزم کو بری کرنے کیلئے تحریری فیصلہ سنا دیا۔ پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ ملزم نے لڑکی کو شادی سے انکار پر قتل کیا۔

عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے 2022 میں ملزم کو سزائے موت اور جرمانے کی سزا دی تھی۔ مقتولہ کا پوسٹ مارٹم 7گھنٹے تاخیر سے ہوا اور پراسیکیوشن کو ملزم کے خلاف کیس ثابت کرنے میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے، لہٰذا ملزم کی سزائے موت کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

Related Posts