بھارت میں دہشت گردی سے لے کر لیاری تک، کیا دھرندر پاکستان مخالف فلم ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

دھرندر
(فوٹو: آن لائن)

بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ کی سنسنی خیز ایکشن اور خون آشام کرداروں سے بھرپور فلم دھرندر میں کراچی کے علاقے لیاری کے بدنامِ زمانہ رحمان ڈکیت اور چوہدری اسلم جیسے مجرموں کی سرکوبی کو نمایاں کیا گیا۔ فلم میں رحمان ڈکیت کی انٹری اور گیت کو سراہا جارہا ہے جبکہ فلم کا بیانیہ پاکستان مخالف جذبات پر مبنی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ساڑھے تین گھنٹوں سے زائد طوالت پر مشتمل فلم دھرندر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقبولیت حاصل کررہی ہے تاہم اس سے فلم کے حقیقت پر مبنی ہونے کا کوئی تعلق نہیں بلکہ فلم میں بھاری بھرکم کاسٹ کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔

اگر فلم دھرندر میں دہشت گردی کے واقعات کے ذکر کو بیان کیا جائے تو اور ایکشن اور قتل و غارت کے شیدائی فلم بینوں کو قندھار ہائی جیکنگ سے لے کر پالیمنٹ حملے اور ممبئی کے چھبیس گیارہ حملوں تک کی تمام تر دہشت گردی کی ہولناکیاں دکھائی گئی ہیں جن کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا تھا تاہم اس کا کوئی ثبوت پیش نہ کیاجاسکا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Jio Studios (@officialjiostudios)

اس فلم میں رحمان ڈکیت کے طور پر اکشے کھنہ کی انٹری اور گیت کو سراہا جارہا ہے۔ رنویر سنگھ کی یہ فلم 1999 سے شروع ہوتی ہے جہاں ایک انتہائی خونریز قتل دکھایا گیا ہے، پھر 2001 کے پارلیمنٹ حملے کی یاد تازہ کی گئی اور پھر 2008 کے ممبئی حملے دکھائے گئے جہاں دہشت گردوں اور ان کے ہینڈلرز کے مابین بھارتی میڈیا کے بقول اصلی ریکارڈ شدہ گفتگو شامل ہے۔ فلم میں کراچی کے علاقے لیاری کو دہشت گردی کا مرکز بتایا گیا ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by worldinlast24hr™ (@worldinlast24hr)

بھارتی جیمز بانڈ یعنی را ایجنٹ  حمزہ کا کردار رنویر سنگھ نے لمبے بالوں، طویل داڑھی اور ابھرے ہوئے عضلات کے ساتھ ادا کیا ہے جس میں وہ خود کو ایک بلوچ کے طور پر پیش کرتا ہے، ایک ایسے ماحول میں جہاں بلوچ اور پٹھان شدید خونریزی پر مبنی لڑائی کرتے ہیں جس کیلئے وہ لیاری گینگ وار کے اہم کردار رحمان ڈکیت کا اعتماد حاصل کرتا ہے اور اپنے مشن کو انجام دیتا ہے۔ایک جانب بھارتی مداح فلم کی تعریف کر رہے ہیں تو دوسری جانب پاکستانیوں نے کھل کر اس فلم کا مذاق بھی اڑایا ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by mr talkative (@mr.talkative24)

یہی نہیں بلکہ دھرندر میں متعدد ایسے کردار متعارف کرائے گئے ہیں جس میں لیاری میں قتل و غارت، طاقت کی جنگ اور سیاست کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے جس میں ارجن رامپال کو آئی ایس آئی کے میجر اقبال کے روپ میں دکھایا گیا ہے جو ٹریلر کے آغاز میں یہ بد ترین قتل و غارت کرتا نظر آتا ہے جبکہ سنجے دت کراچی پولیس کے انکاؤنٹر اسپیشلسٹ چوہدری اسلم کا کردار نبھا رہے ہیں۔

کیا یہ پاکستان مخالف فلم ہے؟

جی ہاں۔ پاکستان کے خلاف بنائی گئی یہ فلم دہشت گردی کے مختلف واقعات کا ذکر کرتی ہے جو بھارت میں رونما ہوئے اور جن میں درجنوں بھارتی شہری ہلاک بھی ہوئے۔ پھر آئی ایس آئی ایجنٹ کے طور پر رنویر سنگھ کو دکھایا گیا ہے جو لیاری میں رحمان ڈکیت اور چوہدری اسلم جیسے کرداروں کا سامنا کرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کو اندر سے توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

غور کیا جائے تو فلم کا بیانیہ حقیقی واقعات سے بھی متأثر ہے تاہم دھرندر سمیت کسی بھی بھارتی فلم میں پاکستان کے خلاف جو بیانیہ وضع کیاجاتا ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوا کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان نے تو بھارت کے دہشت گردوں اور جاسوسوں کو پکڑ کر عالمی برادری کے سامنے پیش بھی کیا، لیکن بھارت کی جانب سے ایسا ایک بھی واقعہ سامنے نہیں آسکا۔

دوسری جانب خود بھارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ فلم نہ صرف حقیقی واقعات سے متأثر ہے بلکہ اس کے متعدد کردار حقیقی زندگی میں بھی پائے جاتے تھے یا اب بھی پائے جاتے ہیں، تاہم یہ بھی تسلیم کیاجارہا ہے کہ یہ فلم ہر دہشت گردی کو پاکستان کے سر تھوپنے کی بھارتی میڈیا کی کاوشوں کا ایک حصہ کہی جاسکتی ہے۔

Related Posts