پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے وسائل سے 63 میگاواٹ کے پن بجلی کے تین منصوبے مکمل کر لیے، ان منصوبوں کی تکمیل سے صوبے کو سالانہ 4.4ارب روپے کی آمدن ہوگی۔
سوات کوریڈور پر 40 کلو میٹر طویل ٹرانسمیشن لائن بچھانے پر بھی کام تیز کر دیا گیا ہے جو آئندہ سال مکمل کر لیا جائے گا جن کی تکمیل سے صوبے کے صنعتی شعبے کو سستی بجلی فروخت کی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار سیکرٹری توانائی و برقیات نثار احمد نے پیڈو ہاؤس میں پن بجلی کے جاری 7 اہم منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں چیف ایگزیکٹو پیڈو حبیب اللہ شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال 63میگاواٹ کے تین اہم پن بجلی منصوبے 40.8میگاواٹ کوٹو دیر، 11.8میگاواٹ کروڑہ شانگلہ اور 10.2 میگاواٹ جبوڑی مانسہرہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے گئے ہیں۔
اسی طرح 300 میگاواٹ بالاکوٹ مانسہرہ، 157 میگاواٹ مدین سوات، 88 میگاواٹ گبرال کالام، 84 میگاواٹ مٹلتان سوات، 69 میگاواٹ لاوی چترال اور 6.9 میگاواٹ مجاہدین پاور پراجیکٹ تورغر پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کیا۔
سیکرٹری توانائی نے ضلع سوات میں توانائی کے جاری 3فلیگ شپ منصوبوں پر کام کی سست روی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ان منصوبوں سے 330میگاواٹ بجلی کی پیداوار آئندہ 2 سالوں میں شروع ہونے کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو خبردار کیا کہ منصوبے مقررہ ڈیڈلائن کے اندر مکمل کریں بصورت دیگر اب کسی بھی قسم کی تاخیر ناقابل برداشت ہوگی۔ انہوں نے پیڈو افسران کو تمام امور ٹیم ورک کے تحت نمٹانے پر زور دیا کیونکہ محکمہ توانائی موجودہ صوبائی حکو مت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت گین چارٹ کے ذریعے تمام جاری منصوبوں کی روزانہ کی بنیاد پر فزیکل پراگریس مانیٹر کر رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








