سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر میں تاریخِ انسانی کے بدترین کرفیو کا آج 175واں روز ہے جبکہ طویل ترین کرفیو کے دوران بھارتی فوج کے مظالم اور ظلم و تشدد آج بھی جاری ہے۔
بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں پکڑ دھکڑ، نام نہاد سرچ آپریشن، ظلم و تشدد اور قتل و غارت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کے دوران آئے دن مظلوم کشمیری اپنی جانوں کی قربانی پیش کر رہے ہیں۔
مظلوم کشمیریوں نے غاصب بھارت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع کر رکھی ہے جبکہ بھارت کی عائد کردہ پابندیوں کے باعث وادی کی سڑکیں، کاروبار، دکانیں اور تعلیمی مراکز سنسان ہوچکے ہیں۔
قابض بھارتی فوج نے مظلوم کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھا ہے جبکہ وادی میں انٹرنیٹ، موبائل فون، ٹی وی نشریات اور ٹرانسپورٹ پر عائد پابندیوں کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
مقبوضہ وادی میں خوراک، زندگی بچانے والی ادویات اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کے باعث قحط کی سی صورتحال پیدا ہوچکی ہے جبکہ وادی کے مختلف اضلاع میں تلاشیاں لے کر ہراساں کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
کشمیری حریت رہنماؤں کے ساتھ ساتھ بھارت نواز سیاسی قیادت کو سخت پابندیوں کا سامنا ہے جس کے دوران بھارتی فوج نے بڑی تعداد میں سیاسی رہنماؤں، نوجوانوں، خواتین اور بچوں کو جیلوں میں بند کردیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکا کی معاون نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے کہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں تمام سیاسی رہنماؤں کو رہا کرےجنہیں بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا ہوا ہے۔
حال ہی میں بھارت کا دورہ کرنے والی امریکی معاون نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے واشنگٹن میں گزشتہ روز پریس بریفنگ کے دوران بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے زور دیا۔
مزید پڑھیں: امریکا مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کو رہا کرنے کا مطالبہ
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








