شیخ محمد بن زاید کا دورہ پاکستان۔۔۔ محرکات و مفادات

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پرمتحدہ عر ب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پہلے سرکاری دورے پر پاکستان 26دسمبر کو پہنچے۔پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے صدر کے طیارے کو حصار میں لے کر فضائی سلامی دی اور جب وہ نور خان ائیر بیس پہنچے تو وزیراعظم نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، 21توپوں کی سلامی اور گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا، جو پاکستان کی جانب سے دو طرفہ تعلقات کی نئی بلندیوں پر پہنچنے کا مظہر ہے۔

متحدہ عرب امارات ایک خوبصورت اور معاشی طور پر مستحکم اور پرکشش ملک ہے جو تیل اور قدرتی گیس کی دولت سے مالا مال ہے، جس کی دریافت کئی سال قبل بیرونی سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہوئی اور اس کی بدولت یہ جلد ہی دنیا کی امیر ترین ریاستوں میں شمار ہونے لگا۔ 2007 سے 2009 کے عالمی اقتصادی بحران سے متاثر ہونے کے باوجود، متحدہ عرب امارات جلد بحال ہوا، اس کے ترقیاتی منصوبے دوبارہ شروع ہوئے اور پراپرٹی مارکیٹ 2012 کے بعد بہتر ہونا شروع ہوئی، جو اس کی معاشی لچک کو ظاہر کرتی ہے۔ اب یہ ملک ٹیکس کی نرم پالیسیوں، ڈیوٹی فری زونز اور کاروبار دوست ماحول کی بدولت سیاحت، تجارت اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات 1971سے قائم ، دیرینہ اور برادرانہ ہیں، جو مختلف شعبہ جات میں مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس میں اعلیٰ سطحی دوروں کے دوران اہم معاشی اور تجارتی معاہدوں کی منظوری شامل ہے۔ متحدہ عرب امارات پاکستان کی معیشت میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک تاریخی و ثقافتی روابط اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے تعلقات کو مزید مستحکم کر رہے ہیں۔ یہ تعلقات نہ صرف اقتصادی ترقی بلکہ خطے میں امن اور خوشحالی کے مشترکہ وژن کی توثیق و ترویج بھی کرتے ہیں۔

مجھے ماضی میں متحدہ عرب امارات میں سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا موقع ملا، اور پاکستان پہلا ملک تھا جس نے نہ صرف سب سے پہلے یو اے ای کو تسلیم کیا بلکہ وہاں اپنا سفارتی مشن بھی قائم کیا، یہ الگ بات کہ پاکستان اس تیزرفتاری کے ساتھ ترقی نہیں کرسکا جو متحدہ عرب امارات کا خاصہ رہی اور آج یو اے ای کے پاس ساورن ویلتھ فنڈ اور پنشن فنڈ ملا کر 2.5ٹریلین ڈالرز کے اثاثے ہیں۔ ملک کا جی ڈی پی 500ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔ ماضی میں جو ملک صرف تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی مدد سے زندہ تھا، آج اس کی نان آئل تجارت کا حجم 817ارب ڈالرز تک جا پہنچا ہے۔ اس کے زر مبادلہ ذخائر 250ارب ڈالرز سے زائد ہیں۔ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت 25-2024میں تقریباً 10.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جہاں پاکستان کی برآمدات تقریباً 2.1 ارب ڈالر اور درآمدات 8 ارب ڈالر کے قریب رہیں۔ یہ روابط توانائی، سرمایہ کاری اور خدمات کے شعبوں میں مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے، جبکہ پاکستانی تارکین وطن کی ترسیلات زر 2025 میں 7 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔

ماضی میں پاکستان اور یو اے ای کے مابین بہت سے  میمورنڈمز آف انڈر اسٹینڈنگ اور ایگریمنٹس پر دستخط ہوئے اور صدر کا یہ دورہ اس لحاظ سےبھی اہمیت کا حامل ہے کہ ایسے دوروں میں بات اس قسم کے معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کی نوبت تک پہنچ سکتی ہے۔ آج یو اے ای بین الاقوامی سرمایہ کاری کیلئے بڑی پرکشش منزل بنا ہوا ہے اور یو اے ای میں مقیم 18لاکھ سے زائد پاکستانی شہری دو طرفہ تعلقات کی مضبوط کڑی بنے ہوئے ہیں۔ سال 2024 میں یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں نے 6.7ارب ڈالرز کی ترسیلاتِ زر پاکستان کو بھیجیں۔

رواں برس بھارت کے خلاف محدود پیمانےکا جنگی تنازعہ جسے معرکہ حق کا نام دیا جاتا ہے، اس کےبعد ملک کی خارجہ پالیسی نے جن بلندیوں کو چھوا ہے، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی اور آج امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو جتنی اہمیت دے رہا ہے اور عالمی جریدوں میں پاکستانی قیادت، خارجہ پالیسی اور ڈپلومیسی کے حق میں جو مضامین لکھے جارہے ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ یو اے ای کا دورہ بھی پاکستان کیلئے ایک ایسا موقع ثابت ہوسکتا ہے جوماضی کے مقابلےمیں کلیدی اہمیت کا حامل ثابت ہو، جیسا کہ مئی 2024میں وزیراعظم شہباز شریف نے یو اے ای کا دورہ کیا تو اس موقعے پر اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان میں 10ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ آج متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی 19کمپنیاں پاکستان میں مختلف شعبہ جات میں کام کر رہی ہیں۔ رواں برس یو اے ای پاکستان میں براہِ راست سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں تیسرا بڑا ملک ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان عوام سے عوام کی سطح پر دو طرفہ تعاون کو فروغ دے، سائنس و ٹیکنالوجی اور دفاع سمیت دیگر شعبہ جات میں باہمی تجارت کو بڑھایا جائے،جبکہ اس سے قبل یو اے ای نے جن شعبہ جات میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے ان میں بینکنگ، آئی ٹی، رئیل اسٹیٹ، توانائی اور مواصلات کے شعبے شامل ہیں۔ باہمی تعلقات اور تجارت کو فروغ دینے کے نتیجے میں پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری دو گنا ہو کر 20ارب ڈالرزتک بھی جاسکتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران اپنے گریبان میں جھانکیں اور اس چیز کا جائزہ لیں کہ وہ کون سے محرکات ہیں جن کے سبب یو اے ای جیسے برادر ممالک بھی پاکستان سے مصنوعات منگانے میں تجارتی مفاد محسوس نہیں کرتے اور پاکستان سے افرادی قوت حاصل کرنے میں بھی بہت زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔

اگر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی گہرائی کو دیکھا جائے تو معاشی و تجارتی اعتبار سے پاکستان متحدہ عرب امارات سے اتنے معاشی فوائد حاصل نہیں کرسکا جس کی ضرورت تھی۔ اس کی وجہ بہت سادہ سی ہے کہ مختلف دہائیوں میں پاکستان کے اکابرین اور حکمران اپنے ذاتی مفادات پر تو زیادہ توجہ دیتے رہے مگر ملکی مفادات کو نظر انداز کیا گیا۔

اگر یہی حکمران پاکستان میں ہنرمندی کو فروغ دینے کیلئے اداروں کو اس قابل بناتے کہ وہ عالمی معیار کی سرٹیفکیشن دے سکتے تو ایسی صورت میں یو اے ای اور خلیج کے مختلف ممالک میں پاکستان کی افرادی قوت کی نہ صرف کھپت ہوتی بلکہ یہ تمام ممالک پاکستان کو دیگر ممالک پر ترجیح دیتے، لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا اور دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی لیکن پاکستان وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم 19ویں صدی کے ہتھیاروں سے 21ویں صدی کی معاشی جنگ نہ تو لڑ سکتے ہیں اور نہ جیت سکتے ہیں، جبکہ پاکستان دقیانوسی انداز میں فرسودہ طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے اپنے ادارے چلا رہا ہے جنہیں دیکھتے ہوئے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی تاجر بھی جھنجھلا کر یہ ملک چھوڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے ذاتی ملاقاتوں اور گفتگو میں بھی یو اے ای کے حکمران اکثر ذکر کیا کرتے تھے کہ پاکستان میں جب ہمارے اماراتی شہری سرمایہ کاری کیلئے جاتے ہیں تو وہاں بیوروکریسی کی پیدا کردہ بہت سی الجھنوں میں پھنس کر واپس لوٹ آتے ہیں۔

قدرت کے اس انمول تحفے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے نہ صرف اچھے مقام پر ہے بلکہ پاکستان کا امیج بھی دنیا میں بام عروج پر ہے۔ اس سے مطابقت پیدا کرنے کیلئے حکومت کو لازمی طور پر اپنے اداروں میں انقلابی اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ ہم اپنی مصنوعات کو متحدہ عرب امارات میں پہنچا سکیں اور اپنے تعلقات کو معیشت کی بہتری کیلئے استعمال کرسکیں۔

Related Posts