افغانستان جرنلسٹس سینٹر نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ سال صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف تشدد، دھمکیاں اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے 205 کیسز ریکارڈ کیے گئے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں۔
رپورٹ میں سال 2025 کو طالبان کی واپسی کے بعد صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ادوار میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ طالبان کی جانب سے خلاف ورزیوں میں بدترین سنسرشپ، جان کی دھمکیاں، من مانی حراست اور جسمانی تشدد شامل ہیں۔ رواں سال کم از کم پانچ صحافی تاحال طالبان کی حراست میں ہیں جن پر الزامات واضح نہیں کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق دو صحافی طالبان فورسز اور پاکستانی فوج کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہوئے جبکہ تین زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 166 کیسز دھمکیوں کے اور 34 غیر قانونی گرفتاریوں کے تھے۔ طالبان نے کم از کم 17 صوبوں میں لائیو براڈکاسٹس پر پابندی لگا دی ہے جس کی وجہ سے 20 سے زائد ٹیلی ویژن اسٹیشنز نے اپنا آپریشن معطل کر دیا۔
میڈیا ورکرز کا کہنا ہے کہ طالبان کے اخلاقی قانون کے نفاذ کے بعد صحافیوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ انٹیلی جنس افسران اور اخلاقی پولیس نیوز رومز کی نگرانی کر رہے ہیں اور صحافیوں کو حراست میں لے رہے ہیں۔میڈیا ایڈووکیسی تنظیموں نے کہا ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں صحافیوں پر پابندیاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں، درجنوں صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے حراست میں لیا گیا یا بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا جو اظہار رائے کی آزادی کے بین الاقوامی معیارات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں نے طالبان سے میڈیا پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مسلسل دباؤ کی وجہ سے افغانستان میں آزاد معلومات تک رسائی خطرے میں ہے۔ طالبان حکام نے اب تک اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








