سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی حال ہی میں اپنی فیملی کے ساتھ بیرون ملک شاپنگ کر رہے تھے کہ ایک اوورسیز پاکستانی نے انہیں سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ ایک ویڈیو کی شکل میں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور اس نے مختلف طبقات میں بحث چھیڑ دی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مذکورہ اوورسیز پاکستانی سعید غنی سے براہ راست مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ان کی پارٹی نے کراچی کو برباد کر دیا جس کی وجہ سے وہ خود ملک چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ اب سعید غنی آرام سے یہاں گھوم پھر رہے ہیں جبکہ انہیں اور ان کی پارٹی کو شرم آنی چاہیے کیونکہ سب کرپٹ ہیں۔
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کے درمیان تقسیم نظر آئی۔ ایک گروپ نے اوورسیز پاکستانی کے غم و غصے کو جائز قرار دیا اور کہا کہ کراچی کی موجودہ صورتحال کے لیے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
آپ نے میرے شہر کراچی کو تباہ کردیا ہے، آپکو آپکی پیپلزپارٹی کو شرم آنی چاہئیے۔ ایک اوورسیز پاکستانی کا شاپنگ مال میں صوبائی وزیر سعید غنی سے مکالمہ pic.twitter.com/WD7nGQXjFf
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) December 28, 2025
دوسری طرف بہت سے صارفین نے اس تنقید کے انداز کو غلط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعید غنی اپنی فیملی اور بچوں کے ساتھ نجی وقت گزار رہے تھے، اس موقع پر انہیں اس طرح ہراساں کرنا اور گندی زبان استعمال کرنا سراسر نامناسب ہے۔ کئی صارفین نے سعید غنی کے صبر اور تحمل کی تعریف کی کہ انہوں نے صورتحال کو مزید خراب کیے بغیر تمیز سے جواب دیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ “کوئی شخص اپنے خاندان کے ساتھ شاپنگ کر رہا ہو اور وہ بھی مہذب انداز میں بات کر رہا ہو، اس کے بچوں کے سامنے ایسی زبان استعمال کرنا بالکل درست نہیں۔” صارفین کا یہ بھی مؤقف تھا کہ اگرچہ شہری مسائل پر تنقید کا حق ہے، مگر اسے مناسب اور مہذب طریقے سے کیا جانا چاہیے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر عوامی نمائندوں کے نجی زندگی میں مداخلت اور سیاسی اختلافات کے اظہار کے طریقوں پر بحث کو جنم دے رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








