رواں سال کراچی کے کھلے مین ہولز نے 27 معصوم جانیں چھین لیں! میئر مرتضیٰ وہاب اور ڈپٹئ میئر سلمان مراد کی ہَٹ دَھرمی برقرار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی میں بلدیاتی اداروں کی مسلسل غفلت اور ناقص انفراسٹرکچر کی وجہ سے کھلے مین ہولز اور نالوں کا مسئلہ ایک مستقل خطرہ بنا ہوا ہے جس نے رواں سال 2025 میں اب تک 27 معصوم بچوں اور نوجوانوں کی جانیں لے لی ہیں۔حال ہی میں ایک اور دلخراش سانحہ پیش آیا جب کورنگی کے مہران ٹاؤن میں 8 سالہ دلبر علی گھر کے باہر کھیلتے ہوئے کھلے گٹر میں گر گیا اور جان کی بازی ہار گیا۔

یہ واقعہ 29 دسمبر کو رونما ہوا جہاں بچے کی لاش اس کے چچا اور مقامی افراد نے تلاش کے بعد برآمد کی۔ بچے کے والد اظہر علی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سیوریج کی صفائی کے دوران مین ہول کا ڈھکن ایک ماہ پہلے ہٹایا گیا تھا اور دوبارہ نہیں لگایا گیا جس کی متعدد شکایات کے باوجود کوئی توجہ نہیں کی گئی۔ اسی طرح، دسمبر کے شروع میں گلشن اقبال کے نیپا چورنگی کے قریب 3 سالہ ابراہیم نبیل خریداری کے دوران والدین کے سامنے کھلے مین ہول میں گر گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچہ والد کی طرف دوڑتا ہوا اچانک غائب ہو جاتا ہے،اور اس کی لاش 14 سے 15 گھنٹوں کی شدید تلاش کے بعد تقریباً ایک کلومیٹر دور نالے سے ملی۔ یہ دونوں بچے اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے، جن کی موت نے نہ صرف ان خاندانوں کو تباہ کر دیا بلکہ پورے شہر میں غم، غصے اور احتجاج کی لہر دوڑا دی۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور ڈپٹی میئر سلمان مراد نے ان واقعات پر عوامی اور سیاسی تنقید کو بارہا مسترد کیا ہے اسے مخالفین کی طرف سے سیاسی پوائنٹ سکورنگ قرار دیتے ہوئے ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے تنقید کرنے والوں پر سخت اور نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں۔ نیپا چورنگی کے واقعے کے بعد جب میئر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں صحافی سے کہا کہ کیوں استعفیٰ دوں، تمہارے باپ کا مال

ہے کیا؟ تاہم شدید دباؤ کے بعد میئر نے متاثرہ خاندان سے معافی مانگی اور ناکامی کا اعتراف بھی کیا جبکہ یونین کمیٹیوں کو مین ہول کورز اور سٹریٹ لائٹس کی مرمت کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے الاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا۔

یہ مسئلہ کراچی کا پرانا زخم ہے جو سالہا سال سے حل نہیں ہو رہا۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق صرف رواں سال کے 11 ماہ میں 23 سے زائد افراد اس غفلت کا شکار ہو چکے تھے، جو دسمبر کے آخر تک 27 تک پہنچ گیا۔ مین ہول کورز کی چوری، نشئی افراد کی طرف سے لوہے کی فروخت، اور بلدیاتی اداروں کی عدم توجہی اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ماضی میں بھی متعدد بچے جیسے شاہ فیصل کالونی کا 6 سالہ عباد، سرجانی ٹاؤن کا 3 سالہ اسد اللہ اور دیگر علاقوں میں اسی طرح جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سیاسی جماعتیں جیسے جماعت اسلامی، ایم کیو ایم پاکستان اور دیگر نے میئر کی مستعفیٰ ہونے کے مطالبات کیے جبکہ عدالتوں میں مقدمات درج کرنے کی درخواستیں بھی دی گئیں۔

شہریوں کا غصہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ نیپا واقعے کے بعد سڑکیں بلاک کر دی گئیں، ٹائر جلائے گئے، اور حتیٰ کہ میڈیا گاڑیوں پر پتھراؤ بھی ہوا۔ ماہرین اور شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ کھلے مین ہولز کا فوری سروے کیا جائے، ڈھکنوں کی چوری روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں اور ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ اگر اب بھی ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو یہ سلسلہ جاری رہے گا اور مزید معصوم جانیں خطرے میں رہیں گی۔ کراچی جیسا عظیم شہر اپنے بچوں کو بنیادی تحفظ بھی فراہم نہ کر سکے تو ترقی کے دعوؤں کا کیا فائدہ؟

Related Posts