روس حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی صدارتی رہائش گاہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی تاہم یوکرین نے اس دعوے کو جھوٹ اور امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ کی ثالثی میں یوکرین-روس کے درمیان امن بات چیت جاری تھی۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے پیر کو کہا کہ یوکرین نے نووگوروڈ کے علاقے میں واقع پوتن کی صدارتی رہائش گاہ (والڈائی کمپلیکس) پر 91 لمبی رینج والے ڈرونز سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ لاوروف کے مطابق روسی فضائی دفاع نے تمام ڈرونز کو مار گرایا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا اور اس وقت پوتن وہاں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے اسے دہشت گردانہ حملہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے روس اپنی مذاکراتی پوزیشن کا جائزہ لے گا لیکن مذاکرات جاری رہیں گے۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روسی دعوے کو مکمل جھوٹ اور انتہائی خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس یہ جھوٹے دعوے کر کے امریکہ-یوکرین کے سفارتی عمل کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور ممکنہ طور پر کییف میں سرکاری عمارتوں پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ یوکرینی وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے بھی اس الزام کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین صرف جائز فوجی اہداف پر حملہ کرتا ہے اور روس یہ دعویٰ مزید حملوں کا بہانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
کریملن کے مطابق پوتن نے اس مبینہ حملے کی اطلاع امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دی جس پر ٹرمپ نے حیرت اور غصے کا اظہار کیا۔ روسی میڈیا کے مطابق ٹرمپ شاکڈ اور آؤٹ ریجڈ ہوئے تاہم وائٹ ہاؤس نے کال کو مثبت قرار دیا اور مزید تفصیلات نہیں دیں۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ پسند نہیں آیا لیکن یوکرین کی تردید کے بعد کہا کہ شاید حملہ ہوا ہی نہ ہو۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ٹرمپ کی ثالثی میں امن بات چیت میں کچھ پیش رفت نظر آ رہی تھی جن میں زاپوریژیا نیوکلیئر پلانٹ اور ڈونباس کے علاقائی مسائل ابھی حل طلب ہیں۔ ماہرین کے مطابق روسی دعوے پر کوئی آزادانہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








