وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے روسی صدر کی رہائش گاہ پر مبینہ حملے کی شدید مذمت کی اور اسے گھناؤنا فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امن، سیکیورٹی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے خاص طور پر جب امن کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پاکستان ہر قسم کے تشدد اور سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی اس مبینہ حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ یو اے ای کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ روسی صدر، حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ہر قسم کے تشدد کی مخالفت کرتی ہے۔
یو اے ای کا یہ بیان روس-یوکرین تنازعے میں اس کی غیر جانبدار پوزیشن کے باوجود روس کے ساتھ قریبی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی برادری میں یہ مذمت امن مذاکرات کے دوران اہم سمجھی جا رہی ہے، جہاں امریکہ کی ثالثی سے بات چیت جاری ہے۔
یہ واقعہ یوکرین-روس کشیدگی کو مزید پیچیدہ کرسکتا ہے جہاں روس اپنی مذاکراتی پوزیشن سخت کرنے کی دھمکی دے رہا ہے جبکہ یوکرین اور اس کے اتحادی اسے امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا یہ دعوے امن مذاکرات کو متاثر کریں گے یا نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








