پاکستان میں موبائل فون کی مقامی تیاری اور اسمبلنگ کے شعبے میں نومبر 2025 کے دوران مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں مقامی کمپنیوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ موبائل فون تیار کیے تاہم مجموعی سالانہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صنعت ابھی مکمل بحالی کے مرحلے میں داخل نہیں ہو سکی۔
اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2025 میں مقامی موبائل فون کمپنیوں نے 24 لاکھ 90 ہزار (2.49 ملین) موبائل فونز تیار یا اسمبل کیے جو نومبر 2024 میں تیار ہونے والے 23 لاکھ 10 ہزار یونٹس کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد زیادہ ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے پہلے 11 مہینوں کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 76 لاکھ (27.6 ملین) موبائل فونز مقامی سطح پر تیار یا اسمبل کیے گئے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 3 فیصد کم ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے پہلے 11 مہینوں میں تیار ہونے والے مجموعی 27.6 ملین موبائل فونز میں سے 53 فیصد یعنی تقریباً 1 کروڑ 45 لاکھ یونٹس اسمارٹ فونز پر مشتمل تھے جبکہ باقی 47 فیصد یعنی 1 کروڑ 30 لاکھ سے زائد یونٹس 2G یا بٹن والے فونز تھے۔
اسی عرصے کے دوران پاکستان نے موبائل فونز کی مجموعی طلب کا تقریباً 88 فیصد مقامی مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کے ذریعے پورا کیا جو سال کے پہلے 10 مہینوں میں 93 فیصد کی اوسط سے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ ایپل آئی فون 17 کی لانچ کے بعد درآمدی موبائل فونز کی طلب میں اضافہ ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق 2025 کے پہلے 11 مہینوں میں مقامی سطح پر سب سے زیادہ موبائل فون اسمبل کرنے والے 10 برانڈز میں انفینکس 34 لاکھ 70 ہزار یونٹس کے ساتھ سرفہرست رہا۔ اس کے بعد ویگو ٹیل (30 لاکھ 70 ہزار)، ویوو (25 لاکھ 70 ہزار)، آئی ٹیل (22 لاکھ)، ٹیکنو (17 لاکھ 30 ہزار)، سام سنگ (15 لاکھ 70 ہزار)، شیاومی (13 لاکھ 50 ہزار)، کیو موبائل (10 لاکھ 60 ہزار)، ریئل می (10 لاکھ) اور جی فائیو (9 لاکھ 20 ہزار یونٹس) شامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








