نیلی موٹرسائیکل پر بیٹھی مرینا سید کا کہنا ہے کہ بس میں سفر کرنے سے ہمیشہ میری زندگی متاثر ہوتی تھی۔ میرے دفتر کے اوقات ، میری قابلیت، سب سے بڑھ کر اس نے میرا بہت زیادہ وقت ضائع کیا ، مرینا ان چند خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے میں موٹرسائیکل چلانے کی ہمت کی۔
ان کا کہنا ہے کہ میرے آفس کا وقت 6 سے 11 بجے تک تھا ، مجھے اسٹاپ پر بس کے لئے رات دیر تک انتظار کرنا پڑتا تھا اور اکثر مجھے زائد کرایا ادا کرنا پڑتا کیونکہ میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ چنگ چی ایک بہتر آپشن تھا لیکن افسوس کہ اس پر پابندی عائد کردی گئی۔
کاریں چونکہ مہنگی تھیں اس لیئے مرینا نے مردوں کی طرح موٹر سائیکل چلانے کا فیصلہ کیا۔ان کے دوستوں نے موٹرسائیکل سکھانے میں مددکی اور مرینا کو بائیک اسٹارٹ کرنے، گیئرز شفٹ کرنے ، رکنے اور ہر وہ چیز بتائی جس کی ان کو ضرورت تھی۔

اکیسویں صدی میں بھی پاکستان میں خواتین بائیک چلانے میں بے حد جھجھک محسوس کرتی ہیں کیوں کہ پاکستان میں خواتین کے لئے موٹرسائیکل رکھنا ایک نامناسب عمل سمجھا جاتا ہے ،خواتین کو مردوں کے درمیان موٹرسائیکل چلانے میں پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب میں نے موٹر سائیکل پر سوار ہونا شروع کیا تو لوگوں کا ردعمل مضحکہ خیز تھا۔لوگ میرا راستہ روکتے،مجھے سڑکوں پر جگہ نہیں دیتے۔ یہاں تک کہ لوگوں کے بائیک کو میرے پاس سے جان بوجھ کر گھمانے کی وجہ سے میں موٹر سائیکل کو سنبھالنے کی جدوجہد کرتے ہوئے دو بار گری بھی تھی ۔شائدلوگ بائیک چلانے کی وجہ سے ہمارے بارے میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اس لیئے مرد بائیکر ہمیں سڑک پر ہراساں کرتے ہیں۔
یہ سلسلہ یہاں نہیں رکتا بلکہ ان خواتین کی تصاویر بنائی جاتی ہیں حتیٰ کہ انہیں زبانی طور پر بھی طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں گاڑی چلانے والی ہر عورت کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مرد اکثر خواتین ڈرائیورز کے انتہائی قریب گاڑی چلاتے ہیں جس سے نہ صرف خواتین کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے بلکہ وہ ایک بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ یہ ہراسانی خواتین کو باہر نکلنے سے روکنے کا ایک اہم عنصر بھی ہے۔
پاکستان میں موٹرسائیکل چلانا صرف مردوں کا کام سمجھا جاتا ہے،موٹرسائیکل نقل و حمل کا ایک ذریعہ ہے اور اس کا صنف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر بھی یہ مردوں کے لئے قبول کرنا آسان نہیں ہے کہ خواتین بھی موٹرسائیکل چلا سکتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جنسی تفریق اب بھی قائم ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک نابالغ لڑکا موٹرسائیکل چلا رہا ہے لیکن عورت کے گاڑی چلانے پر اعتراض ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ عورت کے موٹرسائیکل پر سوار ہونے سے مردوں میں ایسا احساس پیدا ہوتا ہے کہ اسے اب زندہ رہنے کے لئے مرد کی ضرورت نہیں ہے۔
ذرا فرض کریں کہ ایک بوڑھا باپ بیمار ہے اور گھر میں دواء نہیں ہے۔ ایک عورت کے علاوہ کوئی نہیں ہے: توآپ کیا کریں گے؟ کیا کسی عورت کو دواء لانے کے لئے موٹرسائیکل سوار عورت سے موت یا تکلیف بہتر ہے؟
خواتین کو موٹر سائیکل پر سوار ہونے کی ترغیب دینا ان پر تنقید کرنے کی بجائے ہمیشہ ایک بہتر آپشن ہوتا ہے۔ خواتین اور موٹرسائیکل ایک طاقتور امتزاج ہیں۔ یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ موٹرسائیکلیں آزادی ، اور نقل و حرکت کا بہترین ذریعہ ہے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








