وادی پئی: پاکستان کا ایسا منفرد پشتون علاقہ جہاں محبت کی شادی کو مکمل سماجی تحفظ حاصل ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر بذریعہ اے آئی

ملک کے مختلف علاقوں میں جہاں پسند کی شادی کو اکثر سخت سماجی ردعمل اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہیں بلوچستان کے ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی کی دلکش وادی پئی اس حوالے سے ایک منفرد اور مہذب سماجی روایت کے ساتھ سامنے آئی ہے۔

تحصیل سنجاوی کی وادی پئی اپنی قدرتی خوبصورتی، پہاڑوں، ہریالی اور جھیلوں کے باعث اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔ مختلف پشتون قبائل پر مشتمل یہ علاقہ نہ صرف ثقافتی لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہاں تعلیم کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے، جس کے باعث ایک پسماندہ علاقہ ہونے کے باوجود شرحِ خواندگی بھی قابلِ ذکر ہے۔

اس علاقے کی ایک نمایاں اور پورے ملک کیلئے قابل تقلید سماجی روایت “تشت” کہلاتی ہے۔ اس رواج کے مطابق اگر کوئی لڑکا اور لڑکی باہمی رضامندی سے شادی کا فیصلہ کریں تو لڑکی رضامندی کے ساتھ اپنا گھر چھوڑ کر لڑکے کے ہمراہ چلی جاتی ہے۔ لڑکا اسے کسی رشتہ دار یا دوست کے ہاں ٹھہراتا ہے اور فورا نکاح کرلیتا ہے۔

نکاح کے بعد لڑکے کے اہل خانہ لڑکی کے گھر والوں کو اطلاع دیتے ہیں کہ ان کی بیٹی اپنی رضامندی سے ہمارے لڑکے کے ساتھ شادی کرکے ہمارے گھر آ چکی ہے، اس لیے کسی تشویش کی ضرورت نہیں۔ جس کے بعد لڑکی والے لڑکی کی تلاش ختم کردیتے ہیں۔

“تشت” کے بعد “کیشت” کا مرحلہ آتا ہے، جو دیگر پشتون معاشروں کی ایک رسم “ولوَر” کا متبادل ہے۔ اس میں لڑکے کے اہل خانہ کی جانب سے لڑکی کے خاندان کو ایک طے شدہ رقم دی جاتی ہے، جو عموماً باہمی رضامندی سے مقرر ہوتی ہے اور لڑکا غریب ہو تو یہ رقم قسطوں میں بھی ادا کی جا سکتی ہے۔

رقم کی ادائیگی کے بعد یہ رشتہ دونوں خاندانوں کی مکمل سماجی منظوری حاصل کر لیتا ہے، اور لڑکی کے لیے کسی بھی قسم کے منفی سماجی طعنوں یا دباؤ کا راستہ ختم ہو جاتا ہے اور اسے کوئی بھی تشدد تو دور کی بات، گھر کی عزت خراب کرنے یا بھاگنے کا طعنہ تک نہیں دیتا اور اسے ایک نارمل شادی کی طرح قبول کیا جاتا ہے۔

وادی پئی کی یہ روایت اپنے پشتون اور قبائلی پس منظر کے باوجود انتہائی حیران کن اور قابلِ توجہ ہے۔ یہ پورے ملک کے لیے انسانیت، برداشت، امن پسندی اور تہذیب کی ایک مثبت مثال ہے، جہاں بدقسمتی سے پسند کی شادی پر جوڑوں کو تشدد اور مشکلات کا نشانہ بنانے کا افسوسناک طرز عمل رائج ہے۔

Related Posts