کیا برف پگھلنے لگی ہے؟ انتہاپسند بھارتی تنظیم آر ایس ایس نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحالی کا عندیہ دے دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے نرم مؤقف سامنے آگیا۔

آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری دتاتریا ہوسابالے نے کہا ہے کہ بھارت کو ہمیشہ پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے اور رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرنے چاہئیں۔

ایک انٹرویو میں دتاتریا ہوسابالے کا کہنا تھا کہ سفارتی تعلقات برقرار رکھنے کا بنیادی مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ ممالک کے درمیان تجارت، کاروبار اور رابطے جاری رہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ ویزوں کا سلسلہ بھی بند نہیں ہونا چاہیے۔

آر ایس ایس رہنما نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے مقابلے بھی جاری رہنے چاہئیں، کیونکہ اس طرح کے روابط کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آر ایس ایس جیسے سخت گیر نظریاتی حلقے کی جانب سے اس نوعیت کا بیان غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ماضی میں یہی تنظیم پاکستان کے خلاف سخت مؤقف اپناتی رہی ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بڑھتی کشیدگی، سفارتی تعطل اور تجارتی پابندیوں کے باعث پاکستان اور بھارت کے تعلقات بدترین جمود کا شکار ہیں۔ تاہم آر ایس ایس کے اس مؤقف کو بعض حلقے ممکنہ بیک ڈور ڈپلومیسی یا مستقبل میں تعلقات کی بحالی کے اشارے کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔

Related Posts