لاہور ہائیکورٹ نے سنگین خدشات کے ساتھ بیوی سے غیر فطری جنسی تعلقات قائم کرنے اور ویڈیوز بنانے کے ملزم کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملزم عون محمد پر الزام تھا کہ اس نے زبردستی اپنی بیوی سے نہ صرف غیر فطری جنسی تعلقات قائم کیے بلکہ نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بنائیں۔ جسٹس طارق ندیم نے ملزم کو 5لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے درخواست گزار ملزم کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔
اپنے فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ شرعاً بیوی سے غیر فطری جنسی تعلقات قائم کرنا ممنوع ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق ملزم پر وزیر آباد میں بیوی سے غیر فطری جنسی تعلقات قائم کرنے پر زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔
مقدمے کے متن کے مطابق ملزم نے بیوی کو مجبور کرکے اس کی نازیبا تصاویر بھی بنائیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمہ وقوعے کے تقریباً 3ماہ بعد درج ہوا اور شکایت کنندہ نے اس دوران کسی اور فورم سے رجوع نہیں کیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ خاتون کے دل میں رنجش تھی۔
تحریری فیصلے کے مطابق یہ امکان رد نہیں کیاجاسکتا کہ شکایت کنندہ نے ازدواجی تنازعے کے باعث شوہر کو دباؤ میں رکھنے کیلئے جھوٹا مقدمہ درج کرایا ہو، جبکہ ڈی این اے اور میڈیکل رپورٹس میں ایسے شواہد بھی سامنے نہیں آئے جو غیر فطری جنسی تعلقات کے الزام کو درست ثابت کریں۔
درخواست گزار کی تفتیش مکمل ہونے پر ضمانت کے ناجائز استعمال کا کوئی الزام بھی سامنے نہیں آسکا۔ عدالت نے عبوری ضمانت کو غیر معمولی ریلیف قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ریلیف غیر معمولی حالات میں دیا جاتا ہے۔عدالت نے کیس کے حقائق اور دستیاب شواہد کے مطابق ملزم کی عبوری ضمانت کی توثیق کردی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








