ہندومہاسبھا کا شاہ رخ خان کی زبان کاٹنے پر ایک لاکھ کا انعام دینے کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

شاہ رخ خان
(فوٹو: آن لائن)

بی جے پی رہنما کے بالی ووڈ کنگ کے متعلق کیے گئے متنازعہ تبصرے پر کھڑا ہونے والا ہنگامہ ابھی جاری ہی تھا کہ ہندو مہاسبھا رکن نے شاہ رخ خان کی زبان کاٹنے پر ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہندو مہاسبھا میں ضلعی صدر میرا راٹھور نے بالی ووڈ کنگ کہلانے والے اداکار شاہ رخ خان کی زبان کاٹنے پر ایک لاکھ کے انعام کا اعلان کیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے میرا راٹھور کو آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کا ماننا ہے کہ شاہ رخ خان جیسا اداکار جو ایک سال میں پٹھان اور جوان جیسی سیکڑوں کروڑ کمانے والی فلمز میں ہیرو کا رول کرتا ہے، اس کی زبان کاٹنے پر ایک لاکھ کا انعام دینا بذاتِ خود ایک مضحکہ خیز پیشکش ہے۔

دوسری جانب بھارت کے معروف اسلامی اسکالر مولانا شہاب الدین رضوی نے بنگلہ دیشی کرکٹر کو خریدنے پر اداکار کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شاہ رخ خان کی نیت غلط نہیں، انہیں بھارت کا غدار اور دہشت گرد کہنا غلط اور شرمناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش بھارت کا دوست ملک ہے۔ دیوکی نندن اور سنگیت سوم کے بیانات سراسر غلط اور غرمنصفانہ ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by News24 India (@news24official)

تنازعے کا آغاز

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ہندو مہا سبھا کے رہنماؤں کی طرف سے شاہ رخ خان کے خلاف سخت بیانات اور زبان کاٹنے پر انعام دینے کے بیانات کی وجہ یہ ہے کہ شاہ رخ خان نے آئی پی ایل میں بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمان کو کروڑوں میں خریدا جبکہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کا قتلِ عام ہونے کا الزام عائد کیاجارہا ہے۔

یہی نہیں بلکہ وزیراعظم نریندر مودی کو بھی ایک شدت پسند رہنما دنیش پھلہاری نے خط لکھا جس میں کہا گیا ہے کہ شاہ رخ خان جانتے تھے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کا قتل عام ہوا، پھر بھی بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کو کروڑوں میں خریدا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شاہ رخ خان کی جائیداد ضبط کرکے انہیں بنگلہ دیش بھیجا جائے۔

Related Posts