سات منٹ کی نازبیا ویڈیو نے سوشل میڈیا پر مچائی ہلچل! عمیری لیک کی اصل حقیقت جانیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک مبینہ نازیبا ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جسے صارفین عمیری لیک ویڈیو کا نام دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو تقریباً 7 منٹ 11 سیکنڈ کی بتائی جا رہی ہے اور اس میں ایک نوجوان شخص جسے عمیری کہا جا رہا ہے ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ ازواجی عمل میں ملوث دکھائی دے رہا ہے۔

ویڈیو کے کلپس ایکس پر پارٹس میں شیئر کیے جا رہے ہیں جہاں ایک شادی شدہ خاتون نشے کی حالت میں عمیری نامی شخص سے غیر قانونی طور پر ازواجی عمل میں مصروف ہے جبکہ اس دوران خاتون عمیری نامی شخص سے سے بار بار نکاح کرنے کی بات کرتی نظر آتی ہے۔

خاتون شدید غصے کی حالت میں اپنے شوہر، والدین اور بھائیوں پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کی شادی ایک ایسے شخص سے کروائی گئی جو اس کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ ویڈیو میں خاتون کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ویڈیو بنا کر میرے بھائیوں اور والد کو بھیج دو جبکہ عمیری کا جواب ہے کہ اگر سرمایہ ہوتا تو دو سال پہلے نکاح کر لیتا۔ نشے میں دھت خاتون کہتی ہےکہ میں عمیری دے نال آں، دنیا مر دی اے بھاوے ساری مر جاوے، پر میں عمیری دے رومانس توں بغیر نئی رہ سکدی۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ایکس پر میمز، جوکس اور طنزیہ پوسٹس کا سیلاب آ گیا ہے جبکہ کئی صارفین کی جانب سے خاتون کے بھائیوں کو قصوروار ٹھہرایا جا رہا ہے کہ انہوں نے بہن کی ضروریات نہیں سمجھیں جبکہ عمیری کی “رہائی” کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق خاتون کے خاندان کی شکایت پر عمیری کو گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن اس کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔یہ معاملہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں وائرل ہونے والے دیگر لیک ویڈیو سکینڈلز (جیسے مناہل ملک، امشا رحمان، متھیرا اور دیگر ٹک ٹاکرز) کی طرح پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی کا باعث بن رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ویڈیوز اکثر ہیکنگ، بلیک میلنگ یا ذاتی انتقام کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ایکس پر کئی پوسٹس میں جعلی لنکس شیئر کیے جا رہے ہیں جو وائرس یا فراڈ کا سبب بن سکتے ہیں۔

سائبر کرائم ایکسپرٹس نے خبردار کیا ہے کہ حساس مواد شیئر کرنا یا مشکوک لنکس پر کلک کرنا قانونی طور پر جرم ہے اور پیکا ایکٹ کے تحت سخت سزا ہو سکتی ہے۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ماضی میں ایسے کیسز میں کارروائی کی ہے لیکن اس مخصوص ویڈیو پر ابھی کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

یہ تنازعہ سوشل میڈیا پر تفریح کا ذریعہ بن گیا ہے، لیکن یہ ڈیجیٹل پرائیویسی، اخلاقیات اور سائبر سیکیورٹی کے سنگین مسائل کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے۔ صارفین سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ ایسی ویڈیوز شیئر کرنے سے گریز کریں اور پرائیویسی کا احترام کریں۔

Related Posts