سوشل میڈیا پر ایک نئی وائرل نازیبا ویڈیو نے صارفین کے درمیان بحث کا نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ اس ویڈیو میں مبینہ طور پر گوجرانوالہ کے رہائشی عمیر جسے سوشل میڈیا پر عمیری کہا جا رہا ہے اور ایک شادی شدہ خاتون کے نجی لمحات دکھائے گئے ہیں۔ ویڈیو کی طوالت تقریباً 7 سے 11 منٹ بتائی جا رہی ہے اور حساس مواد پر مشتمل ہے۔
ویڈیو میں خاتون نشے کی حالت میں عمیری سے بات کرتے ہوئے کہتی نظر آتی ہیں کہ میری ویڈیو بنا کر میرے والد اور بھائیوں کو بھیج دو تاکہ وہ جان لیں کہ میں کسی سے ڈرتی نہیں ہوں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کی شادی ایک ایسے شخص سے کروائی گئی جو اس کی جنسی ضروریات پوری نہیں کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے عمیر عرف عمیری کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ویڈیو خاتون کی مرضی سے لیک ہوئی۔ سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو کے وائرل ہونے پر اپنے اپنے انداز میں ردعمل دیا ہے۔ کچھ صارفین عمیری کو سرکاسٹک انداز میں ہیرو قرار دے رہے ہیں اور لڑکی کے بھائیوں کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں کہ انہوں نے بہن کی ضروریات کو نظرانداز کیا۔ کچھ صارفین نے عمیر کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ٹوئٹر صارف اظہر محمود نے کہا کہ عمیر ایک غریب نوجوان ہے جو غربت کے باعث زیادہ مشہور نہیں تھا لیکن اس کی سات منٹ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ہر شخص اسے عمیری کے نام سے جاننے لگا اور اس کی مقبولیت بڑھ گئی۔
دوسرے صارفین نے ویڈیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ لڑکی کے والد اور بھائی ہیں جنہوں نے اپنی بہن کی ضروریات کو سمجھنے میں ناکامی کی۔ کچھ کا کہنا تھا کہ عمیر کو غیر ضروری طور پر ملزم ٹھہرا کر گرفتار کرنا مردانگی کے خلاف ہے اور عورت کی حقیقی ضروریات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
یہ معاملہ ایک بار پھر پاکستان میں پرائیویسی اور سوشل میڈیا اسکینڈلز کے بڑھتے ہوئے رجحان کی یاد دہانی کراتا ہے جہاں نجی لمحات لیک ہونے کے بعد بحث اور طنز کا محور بن جاتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








