ہفتے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکا نے وینزویلا پر آپریشن کیا، دارالحکومت کاراکس دھماکو ں سے گونج اٹھا اور امریکی فوجی صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے جنگی قیدی کی طرح تضحیک آمیز تصویریں شائع کرتے ہوئے نیو یارک لے گئے ، جس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مختلف ممالک میں کچھ مظاہرے بھی نظر آئے اور مظاہرین نے اسے نہ صرف ایک خودمختار ملک کے اقتدارِ اعلیٰ میں مداخلت بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
امریکا اور اسرائیل جیسے ممالک کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے باعث اقوام متحدہ کا چارٹر تو پہلے ہی لاغر ہوچکا تھا۔ پھر ایک طاقتور ملک نے دوسرے ملک پر چڑھائی کرکے صدر کو جس تذلیل آمیز انداز میں ٹرافی کے طور پر دنیا میں گرفتار کرکے دکھایا، اس سے یہ تأثر پیدا ہوا کہ اب دنیا میں ورلڈ آرڈر کے نام پر کچھ نہیں بچا۔ اگر طاقتور ملکوں کے اس انداز کو مثال بنایا جائے تو پھر چین جو تائیوان کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے، وہ بھی طاقت کے بل پر تائیوان پر قبضہ کرسکتا ہے اور پھر روس، جو 20فیصد یوکرین پر قبضہ کرچکا ہے، وہ باقی 80فیصد یوکرین کے ساتھ کیا کرے گا؟ امریکا کا دیرینہ اتحادی اسرائیل جو اس سے قبل ہی 5ممالک پر حملہ کرچکا، تو گردونواح کے باقی ممالک پر بھی چڑھائی کرکے گریٹر اسرائیل کا خواب پورا کرنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھے گا، اور ایسے قدم کو اٹھانے میں امریکا کو اسرائیل کا ساتھ دینا ایک قدرتی امر ہے۔ چونکہ بارہا یہ کہا گیا ہے کہ امریکا ہی اسرائیل اور اسرائیل ہی امریکا ہے۔ پھر ایسے ممالک کا کیا بنے گا؟ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں، کیونکہ اگر یہی سلسلہ جاری رہے گا کہ طاقتور کمزور کو دبائے گا اور اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کیے جانے لگیں گے تو پھر تو دنیا میں جنگل راج نافذ ہوگا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے وینزویلا کے صدر کی گرفتاری پر ہنگامی اجلاس تو بلالیا، لیکن اسے ویٹو کرنا امریکا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، پھر بھی یہ امید کی جاتی ہے کہ سحر آمیز گفتگو کی وجہ سے دنیا کو ایک پیغام تو جائے گاکہ بین الاقوامی قانون وانصاف ابھی موجود ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے روس اور چین کی حمایت کے ساتھ وینزویلا کی درخواست پر یہ اجلاس بلایا ، جس میں عالمی ضمیر کو جگانے کی کوشش ہوگی، جو شاید ہی کارگر ثابت ہوسکے، تاہم یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں اور امریکی تاریخ سے ایسے متعدد غیرملکی صدور یا حکمرانوں کی مثالیں دی جاسکتی ہیں جن میں سے کچھ کو براہِ راست فوجی کارروائی کے ذریعے جبکہ کچھ کو مقامی حکام کی مدد سے گرفتار کرکے امریکا منتقل کردیا گیا ۔
پاناما کے ڈی فیکٹو حکمران مینوئل نوریگا کی مثال یہاں دینا مناسب ہوگا، جو 3 جنوری 1990 کو امریکا کی آپریشن جسٹ کاز نامی فوجی مداخلت کے دوران گرفتار ہوئے۔ ان پر منشیات کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات تھے۔ 1991 میں ان کا ٹرائل ہوا اور اپریل 1992 میں انہیں 8 الزامات میں مجرم قرار دے کر 40 سال قید کی سزا سنائی گئی، جو بعد میں کم ہو کر 17 سال تک رہ گئی۔ عراق کے سابق صدر صدام حسین کو 13 دسمبر 2003 کو امریکی فورسز نے اس مقام سے گرفتار کیا جہاں وہ روپوشی اختیار کیے ہوئے تھے۔ ان پر جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات تھے، اور 2006 میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ اسی طرح وسطی امریکی ملک ہونڈوراس کے سابق صدر خوان اورلانڈو کو 15فروری 2022 کو ان کے گھر سے امریکی درخواست پر گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کردیا گیا۔ ان پر منشیات کی امریکا میں درآمد کی سازش، اسلحے کے استعمال اور لاکھوں ڈالرز رشوت لے کر اسمگلرز کو تحفظ دینے کے الزامات تھے جس پر مقدمہ فروری 2024 کو نیو یارک میں چلا اور مارچ 2024 میں 3 الزامات پر مجرم قرار دیتے ہوئے 26جون کو 45سال قید کی سزا سنائی گئی، تاہم یکم دسمبر 2025 کو صدر ٹرمپ نے ان کو معاف کردیا تھا۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اپنی گرفتاری سے قبل یہ تأثر دیا تھا کہ امریکا دراصل ان کے قدرتی وسائل بشمول تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ امریکا کا مقصد وینزویلا کے وسائل پر قبضے کے ساتھ ساتھ پاناما کینال پر اثر رسوخ بڑھانا اور وینزویلا سے چین ، ایران اور روس کا اثر رسوخ کم کرنا ہے، جس کیلئے صدر نکولس مادورو پر مختلف سنگین الزامات عائد کیے گئے جبکہ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے جس کے ذخائر کا تخمینہ عالمی ذخائر کا تقریباً 18فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں قدرتی گیس، لوہا، سونا، بوکسائٹ، ہیرے، نکل، تانبا، زنک اور دیگر معدنیات بھی وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ بلاشبہ یہ وسائل اس ملک کی مستحکم معیشت کی بنیاد بن سکتے تھے، تاہم بدعنوانی ، رشوت ستانی اور عالمی سطح پر پابندیوں کے باعث یہ وسائل استعمال نہیں کیے جاسکے اور امریکی صدر اپنی کمپنیوں کو وینزویلا بھیج کر اربوں ڈالرز خرچ کرکے تیل نکالنے اور وینزویلا کا انفراسٹرکچر ٹھیک کرنے کا عندیہ دیتے دکھائی دیتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے 3جنوری کی پریس کانفرنس میں کہا، تاہم اس میں کتنی سچائی ہے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے۔
یہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں اور عالمی ضمیر کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ عالمی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور امریکی صدر کی وینزویلا پر چڑھائی کے خلاف دنیا بھر میں نہ صرف عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے بلکہ روس، ایران، کیوبا، چین، میکسیکو ، برازیل، چلی، اسپین اور کولمبیا سمیت دیگر ممالک کے سربراہان سمیت دیگر اعلیٰ قیادت نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کی مذمت کی، اور اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی کے حکمرانوں کی طرح وینزویلا کے صدر کو بھی کوئی سزا دلوائی تو اس کے خلاف عالمی برادری کی جانب سے ردِ عمل بھی سامنے آئے گا، گوکہ اس کا امریکا پر کچھ اثر مرتب ہونا ناممکن ہے۔ تشویشناک طور پر امریکا کی جانب سے وینزویلا پر آپریشن کے بعد نہ صرف متأثرہ خطے میں ، بلکہ دیگر ممالک میں بھی اس پر قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ اب اگلی باری کس ملک کی ہوگی، حالانکہ امریکا نے کھل کر جس ملک کو دھمکی دی وہ کولمبیا ہے، تاہم ایران کو بھی گاہے بگاہے امریکی حکومت اور اسرائیل کی دھمکیوں کے سبب محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ایران بھی امریکا کے نشانے پر ہے۔ گو کہ ایران وینزویلا کے مقابلے میں بہت مضبوط ملک سمجھا جاتا ہے،اور ایران باور کراچکا ہے کہ حملے کی صورت میں امریکی بیسز بھی ایرانی میزائلوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر چین اور روس کا کوئی بھی دبنگ بیان یا دھمکی سامنے نہیں آئی اور نہ ہی اس کی امید ہے۔ لہٰذا خطرے میں گھرے ممالک اپنے ہی قوتِ بازو پر بھروسہ کرسکتے ہیں، کیونکہ دورِ حاضر میں صرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فلسفہ ہی لاگو ہوتا جارہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں