بھارتی شہر حیدر آباد میں 19 سالہ طالبہ سے لیکچرر نے شرمناک مطالبہ کرتے ہوئے کلاس روم میں داخل ہونے سے روک دیا، ذہنی دباؤ کا شکار طالبہ گھر پہنچ کر بے ہوش ہوگئی۔ ہسپتال لے جانے پر ڈاکٹرز نے ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ حیدر آباد کے گورنمنٹ کالج ملکاجگیری میں پیش آیا جہاں 19 سالہ طالبہ ورشینی کو کالج دیر سے پہنچنے پر کلاس روم میں داخلے سے روکا گیا۔ طالبہ نے بتایا کہ وہ ماہواری کے باعث دیر سے پہنچی جسے لیکچرر نے تسلیم نہیں کیا۔
بعض سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق لیکچرر نے طالبہ سے شرمناک مطالبہ کرتے ہوئے ماہواری کا ثبوت مانگ لیا اور ورشینی کے کلاس فیلوز نے طالبہ کا مذاق اڑایا اور بعض نے کہا کہ وہ اداکاری کررہی تھی جس کے نتیجے میں طالبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی۔
بعد ازاں 19 سالہ طالبہ گھر چلی گئی اور رپورٹس کے مطابق گھر پہنچتے ہی وہ بے ہوش ہوگئی اور اس کے والدین اسے ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹرز نے طالبہ کے ہسپتال پہنچتے ہی اسے مردہ قرار دے دیا اور موت کی وجہ دماغ میں بننے والا کلوٹ بتائی۔

جواں سال بھارتی طالبہ کے والدین کا ماننا ہے کہ طالبہ کو بے عزتی اور شدید ذہنی دباؤ کا سامنا تھا اور آج اکیسویں صدی کے دوران بھی بھارت میں خواتین کے حوالے سے شعور اور آگہی کی شدید کمی ہے کہ کون سے سوالات انہیں ذہنی طور پر پریشان کر سکتے ہیں، جس کا تدارک وقت کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








