ایران میں پرتشدد احتجاج خونی مہم جوئی میں تبدیل، 217افراد ہلاک

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران
(فوٹو: نیو یارک ٹائمز)

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں پرتشدد احتجاج خونی مہم جوئی میں تبدیل ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں 217افراد ہلاک ہوگئے جبکہ مہنگائی اور معاشی بحران کے نتیجے میں جنم لینے والے احتجاج میں سیاسی نعرے بھی بلند کیے جانے لگے۔

تفصیلات کے مطابق بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران میں جاری احتجاج ملک کے 31 میں سے 27صوبوں اور 100 سے زائد شہروں میں پھیل گیا ہے جہاں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کردیا۔

امریکی جریدے ٹائم میگزین کا کہنا ہے کہ رات سے حکومت مخالف مظاہروں میں نمایاں شدت سامنے آئی، جھڑپوں کے دوران سرکاری و عوامی املاک کو نشانہ بنایا گیا اور کم از کم 26 بینک، 25 مساجد، 2 ہسپتال اور 48 فائر ٹرکس مشتعل مظاہرین کی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔

یہی نہیں بلکہ بعض رپورٹس کے مطابق پرتشدد واقعات کے دوران بسوں اور شہریوں کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور بعض واقعات میں تو ایمبولینسوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور نذرِ آتش کردیا گیا ، جس سے تأثر ملتا ہے کہ مظاہرین میں شرپسند عناصر کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

ٹائم میگزین کا کہنا ہے کہ ایک ایرانی ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صرف تہران کے 6 ہسپتالوں میں 217مظاہرین کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں سے اکثر گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ تاہم ایرانی حکومت نے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ امریکا نے اپنے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگ لیے ہیں اور کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پنہچا کر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ ایران کیلئے کرائے کے عناصر ناقابلِ برداشت ہیں۔ قومی سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں۔

Related Posts