قومِ لوط ایجنڈا قبول نہیں، ماریہ بی کا ‘میری زندگی ہے تو’ میں ٹرانس جینڈر شمولیت پر اعتراض

تازہ ترین

تازہ ترین

قومِ لوط
(فوٹو: آن لائن)

مشہورو معروف فیشن ڈیزائنر اور میڈیا انفلوئنسر ماریہ بی کے ٹرانس جینڈرز سے متعلق بے باک خیالات،خصوصاً پاکستانی میڈیا کے حالیہ مواد پر ان کی تنقید کے تناظر میں ایک بار پھر شدید بحث کا سبب بن گئے ہیں۔ماریہ بی کا کہنا ہے کہ ہم کبھی قوم لوط کا ایجنڈا قبول نہیں کریں گے۔

ڈرامہ سیریل “میری زندگی ہے تو” (جس میں ہانیہ عامر اور بلال عباس خان نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں) اگرچہ 2025 کے اختتام اور 2026 کے آغاز میں ایک بڑا ہٹ ثابت ہوا، تاہم ماریہ بی کی حالیہ توجہ ان امور پر مرکوز رہی ہے جنہیں وہ ڈراموں اور عوامی تقریبات میں بعض سماجی رویّوں کی “نارملائزیشن” قرار دیتی ہیں، جو ان کے نزدیک پاکستانی معاشرتی اور اخلاقی اقدار سے متصادم ہیں۔

“میری زندگی ہے تو” جیسے موجودہ ڈراموں پر ہونے والی حالیہ بحث میں سوشل میڈیا پر موجود ناقدین، جو عموماً ماریہ بی کے مؤقف سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں، نے بعض مناظر کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ قابلِ اعتراض رویّوں کو معمول کا حصہ بنا کر پیش کرتے ہیں یا اخلاقی سمت کے فقدان کی عکاسی کرتے ہیں۔

ڈرامے میں انفلوئنسر اور سماجی کارکن ڈاکٹر مہروب معیز اعوان کی شمولیت، جو ایک مختصر کردار (کیمیو) کے طور پر سامنے آئیں، خاصی گفتگو اور تنازع کا باعث بنی۔ اس مختصر کردار پر بعض ناظرین اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید ناراضی کا اظہار کیا، جبکہ کچھ حلقوں نے میڈیا میں مخصوص شخصیات کی ترویج پر سوالات بھی اٹھائے۔

ڈاکٹر مہروب معیز اعوان نے اس سیریز میں ایک مختصر کردار ادا کیا، جس میں مرکزی اداکاری ہانیہ عامر اور بلال عباس خان نے کی ہے۔ اس کاسٹنگ فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بحث چھڑ گئی، جہاں بعض صارفین نے مذہبی جذبات کا حوالہ دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔

اس معاملے پر میڈیا سے وابستہ شخصیات نے بھی اظہارِ خیال کیا، جن میں اداکار خاقان شہنواز شامل ہیں، جنہوں نے کاسٹنگ سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا۔ حالیہ دنوں میں یہ معاملہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ماریہ بی نے اس موضوع پر اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر گفتگو کی۔

فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے ان عناصر کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہیں وہ “غیر اسلامی” یا “قابلِ اعتراض” قرار دیتی ہیں اور کہا کہ اس قسم کے رویے معاشرے میں شیطانی اور غیر اخلاقی ایجنڈوں کو فروغ دیتے ہیں۔

ماریہ بی کا کہنا ہے کہ وہ ایک “فکر مند والدہ” اور پاکستانی معاشرتی ڈھانچے کی حفاظت کرنے والی شہری کے طور پر بات کر رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی بیان بازی ایک کمزور اور حساس طبقے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا ڈرامہ سازوں کا بجٹ کم ہوگیا تھا یا انہوں نے قوم لوط کا ایجنڈا آگے بڑھانے کیلئے چالاکی سے ایک کردار کو جگہ دی اور یہ سمجھے کہ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا؟ یہ شخص ایک بایولوجیکل میل ہے جو عورت کا بھیس بدل کر گھوم رہا ہے اور آپ نے اسے ایک خواتین کی اسپیس میں داخل کردیا۔

ماریہ بی کا کہنا تھا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امریکا میں کتنے ہی آدمی عورتوں کا روپ دھار کر لڑکیوں اور بچوں کا ریپ کرچکے ہیں؟ اداکاراؤں کی روزی روٹی لگی ہوئی ہے، کیا وہ بھی آدمیوں کو جگہ دیں گی؟ ہم خواتین کے حقوق پر اب آدمی آ کر بیٹھیں گے؟ آپ جتنی کوشش کرلیں، والدین کبھی قوم لوط کے ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گے۔

Related Posts