شہر قائد میں ایک بار پھر سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کی نااہلی اور لاپرواہی کا ثبوت سامنے آیا ہے۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں رات گئے تیسرے درجے کی شدید آتشزدگی نے کم از کم 8 افراد کی جانیں لے لیں (بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 10 تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے) جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ آگ رات 10 بجے کے قریب لگی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی عمارت کے اندر دھوئیں اور شعلوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ریسکیو آپریشن نازک مراحل سے گزرا اور عمارت کے کچھ حصے منہدم بھی ہوئے۔
یہ افسوسناک سانحہ کوئی اچانک حادثہ نہیں بلکہ سندھ حکومت کی طویل عرصے سے جاری غفلت، نااہلی اور وسائل کی کمی کا نتیجہ ہے۔ دکانداروں اور عینی شاہدین کے مطابق فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچی آگ بجھانے کے آلات ناکافی تھے اور پلازہ میں فائر سیفٹی کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں تھا۔
سب سے زیادہ شرمناک حقیقت کراچی فائر بریگیڈ کی شدید افرادی قوت کی کمی ہے۔ کے ایم سی کے محکمہ فائر بریگیڈ میں گریڈ 1 سے 17 تک 440 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ کل کی گنجائش 1353 ملازمین کی ہے مگر صرف 913 ہی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اہم عہدوں پر خلا ہے
گریڈ 17 میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی 1 آسامی خالی
اسٹیشن افسران کی 22 میں سے 8 خالی
گریڈ 10 میں لیڈنگ فائر مین کی 111 میں سے 34 خالی
ڈرائیورز کی 242 میں سے 149 خالی
فائر مین کی 777 میں سے 207 آسامیاں خالی
یہ خلا گزشتہ 16 سالوں سے جاری ہے آخری بھرتیاں 2009 میں ہوئی تھیں۔انتقال، ریٹائرمنٹ، آتشزدگی میں شہادت اور زخمی ہونے کی وجہ سے یہ کمی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ کراچی جیسے 2 کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں بین الاقوامی معیار کے مطابق 200 فائر اسٹیشنز اور تقریباً 28,800 فائر فائٹرز درکار ہیں مگر موجودہ وسائل کئی گنا کم ہیں۔
فائر فائٹرز محدود گاڑیوں (صرف ایک اسنارکل اور تقریباً 20 گاڑیاں) اور ناکافی حفاظتی سامان کے ساتھ کام کر رہے ہیں، تنخواہیں اور الاؤنسز میں تاخیر کا سامنا ہے پھر بھی یہ ہیرو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزراء صرف بیانات اور افسوس تک محدود رہتے ہیں۔ ایک طرف تو وفاق سے ایک ارب 72 کروڑ روپے کا پیکج منظور ہوا ہے جس سے 50 فائر ٹینڈرز اور دیگر سامان مل سکتا ہے مگر یہ اقدامات بہت دیر سے اور ناکافی ہیں جبکہ دوسری طرف پلازہ میں دکانوں کی تعداد تک کا درست علم نہیں کوئی 400 بتاتا ہے کوئی 1000، کوئی 2000یہ المیہ حکومتی سطح پر مکمل لاپرواہی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ سانحہ کراچی کے بے ہنگم تعمیراتی ڈھانچے، ناقص ماسٹر پلاننگ اور ہنگامی اداروں کی عدم توجہ کا نتیجہ ہے۔ جب تک سندھ حکومت اور KMC سنجیدگی سے بھرتیاں نہ کرے، فائر سیفٹی آڈٹس نہ کرائے اور وسائل فراہم نہ کرے، ایسے سانحات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ عوام سے مطالبہ ہے کہ اس نااہلی کے خلاف آواز اٹھائیں کیونکہ قیمتی جانیں ضائع ہونے کا ذمہ دار وہ نظام ہے جو عوام کی حفاظت کی بجائے بیان بازی میں مصروف ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








