چاول کی ایکسپورٹس پر سبسڈی دینا چاول کی ایکسپورٹس کو تباہ کرنے کی تیاری ہے۔محمود مولوی

تازہ ترین

تازہ ترین

محمود مولوی
معیشت کی ترقی کیلئے سمندری وسائل سے استفادہ ناگزیر ہے۔محمود مولوی

سابق چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان محمود مولوی نے کہا ہے کہ چاول کی ایکسپورٹس پر سبسڈی دینا چاول کی ایکسپورٹس کو تباہ کرنے کی تیاری ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان چاول کے ایکسپورٹرز کو سبسڈی دینے کی تیاری کر رہی ہے۔سابق چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن محمود مولوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کل شام کو منسٹری آف کامرس کے اجلاس میں سبسڈی دینے کی بات ہوئی۔ ہم سبسڈی دینے کے اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔

بیان میں سابق چیئرمین رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن محمود مولوی نے مزید کہا کہ حکومت کا یہ اقدام  ملک کے اور چاول ایکسپورٹس کے مفاد میں نہیں۔ چاول کے ایکسپورٹس پر سبسڈی دینا چاول کے ایکسپورٹس کو تباہ کرنے کی تیاری ہے۔

خیال رہے کہ بین الاقوامی سطح پر چاول ایک ایسی کموڈیٹی ہے جس کی قیمتیں عالمی منڈی میں طلب اور رسد کے اصولوں کے تحت طے ہوتی ہیں۔ اگر حکومت سبسڈی کے ذریعے پاکستانی چاول کو مصنوعی طور پر سستا کر دے تو یہ وقتی طور پر ایکسپورٹس میں اضافہ تو دکھا سکتا ہے، مگر طویل مدت میں یہ پالیسی قیمتوں کے قدرتی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔

خریدار کم قیمت کے عادی ہو جاتے ہیں اور سبسڈی ختم ہوتے ہی پاکستانی چاول عالمی منڈی میں غیر مسابقتی ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سبسڈی یافتہ ایکسپورٹس کو بین الاقوامی تجارتی قوانین کے تحت ڈمپنگ تصور کیے جانے کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی ممالک اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز یا دیگر تجارتی پابندیاں عائد کر سکتے ہیں، یوں پاکستانی چاول اہم عالمی منڈیوں سے باہر ہو سکتا ہے۔

اسی طرح سبسڈی مارکیٹ میکانزم کو بھی نقصان پہنچاتی ہے کیونکہ اس سے غیر معیاری ایکسپورٹرز کو بلاوجہ سہارا ملتا ہے اور معیار، جدت اور مسابقت بہتر بنانے کا دباؤ ختم ہو جاتا ہے۔ عملی طور پر سبسڈی کا فائدہ اکثر کسان تک پہنچنے کے بجائے بیچ میں موجود ایکسپورٹرز یا مڈل مین لے جاتے ہیں، جبکہ کسان کی پیداواری لاگت اور آمدن میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آتی۔

اس کے برعکس اگر حکومت لاجسٹکس اور فریٹ لاگت میں کمی، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، اور معیار و برانڈنگ پر توجہ دے تو یہ اقدامات عالمی قوانین کے مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹس میں پائیدار اور دیرپا بہتری لا سکتے ہیں۔

Related Posts