ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران پر ممکنہ حملے کے لیے کسی مناسب موقع کی تلاش میں ہے اور اگر ایسی کوئی کارروائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں پورا خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے شواہد موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل خاص طور پر ایران کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالات کسی پرامن حل کی طرف بڑھیں گے تاہم ان کے بقول حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے زمینی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے یہ خدشات اپنے حالیہ دورہ تہران کے دوران ایرانی حکام کے سامنے کھل کر رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مخلص دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل اور تلخ حقائق کو بھی چھپانے کے بجائے سامنے لائے۔
فیدان کے اس بیان کے بعد مبصرین نے ترکی اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں اور باہمی ہم آہنگی میں مزید بہتری کی توقع ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اگر اس پر کسی بھی بیرونی قوت کی جانب سے حملہ کیا گیا تو وہ اسے براہِ راست جنگ کا اعلان تصور کرے گا اور بھرپور جواب دے گا۔
ماہرینِ امورِ خارجہ کے مطابق خطہ پہلے ہی سیاسی اور سلامتی کے متعدد بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے، اور کسی بھی بڑی فوجی کارروائی سے امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ہاکان فیدان نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ ترکی ایران کی خودمختاری، علاقائی امن اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے اور کسی بھی غیر ضروری عسکری مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔
ادھر تحقیقاتی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بعض فوجی اور سیاسی اشارے سامنے آئے ہیں جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








