کراچی کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کے متاثرین کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہر کے اسپتال حکام کے مطابق رواں سال اب تک مجموعی طور پر 3 ہزار 40 سے زائد کتے کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
جناح اسپتال میں یکم جنوری سے اب تک 700 سے زائد مریضوں کو کتے کے کاٹنے کے علاج کے لیے لایا گیا جبکہ سول اسپتال میں اسی عرصے میں تقریباً ایک ہزار کیسز سامنے آئے۔ اس کے علاوہ اسٹیڈیم روڈ پر واقع ایک نجی اسپتال میں 20 افراد کتے کے کاٹنے کے بعد علاج کروا چکے ہیں۔ اسپتال حکام نے کہا کہ شہریوں میں آگاہی اور حفاظتی اقدامات کے باوجود کتے کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ خاتون الاول آصفہ بھٹو زرداری نے آوارہ کتوں کو مارنے کی شدید انداز میں مذمت کی تھی۔ انہوں نے کراچی میں مقامی حکام کی جانب سے آوارہ کتوں کے قتل پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔
I am extremely angry about this ! “Hundreds of stray dogs poisoned in Pakistani city of Karachi” https://t.co/FvBqpIhgSK via @Reuters
— Aseefa B Zardari (@AseefaBZ) August 4, 2016
آصفہ بھٹو نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ مجھے اس پر شدید غصہ ہے کہ اس طرح کتوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ مقامی حکام نے کراچی میں سینکڑوں آوارہ کتوں کو زہر دے کر مارا ہے تاکہ شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی آوارہ کتوں کی تعداد اور عوام پر حملوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ اس کارروائی کے دوران مرنے والے کتوں کے جسم شہر کے مختلف حصوں میں پائے گئے جنہیں بعد میں بلدیاتی عملہ جمع کرکے تلف کرنے لے گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








