آصفہ بھٹو زرداری کی پابندی سے کراچی والے پریشان! جنوری کے 24 روز میں 3 ہزار افراد آوارہ کتوں کا نشانہ بن گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کے متاثرین کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہر کے اسپتال حکام کے مطابق رواں سال اب تک مجموعی طور پر 3 ہزار 40 سے زائد کتے کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

جناح اسپتال میں یکم جنوری سے اب تک 700 سے زائد مریضوں کو کتے کے کاٹنے کے علاج کے لیے لایا گیا جبکہ سول اسپتال میں اسی عرصے میں تقریباً ایک ہزار کیسز سامنے آئے۔ اس کے علاوہ اسٹیڈیم روڈ پر واقع ایک نجی اسپتال میں 20 افراد کتے کے کاٹنے کے بعد علاج کروا چکے ہیں۔ اسپتال حکام نے کہا کہ شہریوں میں آگاہی اور حفاظتی اقدامات کے باوجود کتے کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ خاتون الاول آصفہ بھٹو زرداری نے آوارہ کتوں کو مارنے کی شدید انداز میں مذمت کی تھی۔ انہوں نے کراچی میں مقامی حکام کی جانب سے آوارہ کتوں کے قتل پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔

آصفہ بھٹو نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ مجھے اس پر شدید غصہ ہے کہ اس طرح کتوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ مقامی حکام نے کراچی میں سینکڑوں آوارہ کتوں کو زہر دے کر مارا ہے تاکہ شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی آوارہ کتوں کی تعداد اور عوام پر حملوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ اس کارروائی کے دوران مرنے والے کتوں کے جسم شہر کے مختلف حصوں میں پائے گئے جنہیں بعد میں بلدیاتی عملہ جمع کرکے تلف کرنے لے گیا۔

Related Posts