بالی ووڈ اداکار منوج باجپائی بڑی مشکل میں پھنس گئے جن کی فلم گھونس خور پنڈت ریلیز نہ ہوسکی، فلم کے بیانیے پر بھارتی عوام سراپا احتجاج ہیں، مظاہرین نے منوج باجپائی اور پروڈیوسر نیروب پانڈے کے پتلے نذر آتش کردئیے۔ نیٹ فلکس نے فلم کا ٹیزر بھی ہٹا دیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی اداکار منوج باجپائی کی فلم گھونس خور پنڈت اپنے نام اور موضوع کے باعث تنازعے کا شکار ہوئی ہے جو واضح طور پر ایک ایسے پنڈت کی کہانی بیان کرتی ہے جسے ہندی میں گھونس خور اور اردو میں رشوت خور پنڈت کہا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ اکیسویں صدی میں بھی بھارت میں ذات پات کا نظام پوری شدومد سے رائج ہے جہاں کسی پنڈت کو رشوت خور قرار دینا ہندو مذہب کی توہین سمجھا جاتا ہے۔ بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے نتیجے میں فلم کا تشہیری مواد انٹرنیٹ سے بھی ہٹآ دیا گیا۔
بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی کہ نیٹ فلکس نے فلم گھونس خور پنڈت کا ٹیزر بھی ہٹا دیا۔ فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سٹی ایمپلائز کا کہنا ہے کہ گھونس خور پنڈت کا نام ہی سماجی ہم آہنگی کیلئے نقصان دہ ہے۔ فلم کا عنوان ایک مخصوص برادری اور اس کے روایتی پیشے کو توہین آمیز انداز میں پیش کرتا ہے۔
یہی نہیں، بلکہ بھارت کے مختلف شہروں میں برہمن برادری سے تعلق رکھنے والے افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر منوج باجپائی اور فلم ساز کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے نیٹ فلکس کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
I respect the emotions and concerns people have shared, and I take them seriously. When something you are part of causes hurt to some people, it makes you pause and listen.
As an actor, I come to a film through the character and the story I am playing. For me, this was about… https://t.co/IGlQtLQeNs
— manoj bajpayee (@BajpayeeManoj) February 6, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں عوامی خدشات کو سنجیدہ نظر سے دیکھتا ہوں۔ جب کسی منصوبے سے کسی طبقے کو تکلیف پہنچتی ہے تو انسان کو چاہئے کہ وہ رک کر سن لے۔ نیروب پانڈے کے ساتھ کام کے تجربے میں ہمیشہ سنجیدگی اور احتیاط کا عنصر نمایاں رہا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








