سندھ کے سرکاری محکموں میں رشوت کی شرح 46 فیصد تک پہنچ گئی! ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سی پی آئی رپورٹ جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) 2025 جاری کر دیا ہے جو عوامی شعبے میں کرپشن کی سطح کو ماپنے والا عالمی پیمانہ ہے۔ اس انڈیکس میں پاکستان نے گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی مگر مثبت بہتری دکھائی ہے۔

پاکستان کا اسکور 2024 میں 27 تھا جو اب 28 تک پہنچ گیا ہے، جبکہ عالمی درجہ بندی میں ایک مقام کی بہتری کے ساتھ 182 ممالک میں 136 واں نمبر حاصل ہوا ہے (پچھلے سال 180 ممالک میں 135واں تھا)۔ یہ بہتری مسلسل چار سالوں سے دیکھی جا رہی ہے جس کی وجہ اداروں میں اصلاحات، بہتر گورننس اور احتساب کے اقدامات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انتظامی سطح پر بدعنوانی کے ساتھ ساتھ قانون سازی اور عدالتی نظام میں بھی کرپشن کے تاثر میں کمی آئی ہے۔

عالمی سطح پر صورتحال تشویشناک ہے۔ گلوبل اوسط اسکور دہائیوں بعد پہلی بار گر کر 42 تک پہنچ گیا ہے اور 182 میں سے 122 ممالک 50 سے کم اسکور کر رہے ہیں، یعنی کرپشن کو قابو کرنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان کا اسکور اب بھی کم ہے اور ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں کرپشن کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے خطرات زیادہ ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے جاری نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے کے مطابق سب سے زیادہ کرپٹ شعبے پولیس (24 فیصد، پنجاب میں 34 فیصد)، ٹینڈرز اور پراسیسمنٹ (16 فیصد)، اور عدلیہ (14 فیصد) ہیں۔ سندھ میں عوامی خدمات کے حصول میں رشوت کی شرح 46 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ 67 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اسپتالوں اور ادویات کے شعبے میں غیر اخلاقی طریقے ان کی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

ماہرین اور ٹی آئی پاکستان کے مطابق یہ چھوٹی بہتری مثبت ہے لیکن حقیقی تبدیلی کے لیے مستقل کوششیں درکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ایم ایف کی گورننس تشخیص کو نافذ کیا جائے، انفارمیشن کا حق مضبوط بنایا جائے اور صوبائی سطح پر وسل بلوئر تحفظ کے قوانین متعارف کروائے جائیں (جو فی الحال صرف ایک صوبے میں موجود ہیں)۔

Related Posts