ڈھاکہ: بنگلادیش میں کل ہونے والے عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹنگ صبح سے شام تک جاری رہے گی، جبکہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حساس پولنگ اسٹیشنز پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے نیم فوجی دستے بھی الرٹ رہیں گے۔
اس بار انتخابی میدان میں اصل مقابلہ دو بڑے سیاسی اتحادوں کے درمیان متوقع ہے، جنہوں نے ملک کی سیاسی بساط کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
گیارہ رکنی اتحاد کی قیادت جماعتِ اسلامی کے پاس ہے۔ یہ اتحاد مذہبی اور قوم پرست جماعتوں پر مشتمل ہے اور انتخابی مہم کے دوران انتخابی اصلاحات، شفاف احتساب اور معاشی استحکام کو اپنی ترجیحات قرار دیتا رہا ہے۔ اتحاد کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور گورننس کے مسائل سے تنگ آ چکے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔
دوسری جانب بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہی میں قائم اتحاد کو بھی مضبوط انتخابی قوت سمجھا جا رہا ہے۔ بی این پی اتحاد جمہوری عمل کی بحالی، سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کو اپنا مرکزی نعرہ بنا کر میدان میں اترا ہے۔ اس اتحاد کو ملک کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں خاصی عوامی پذیرائی ملنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کی سربراہی ڈاکٹر شفیق الرحمن کر رہے ہیں، جبکہ بی این پی کے سربراہ سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان ہیں۔ جماعت اسلامی اور بی این پی ماضی میں حسینہ واجد کیخلاف اتحاد رہی ہیں، تاہم اب جبکہ حسینہ واجد ملک سے مفرور اور ان کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی ہے، ماضی کی دونوں حلیف جماعتیں اب ایک دوسرے کی حریف بن کر میدان میں ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس الیکشن میں ووٹر ٹرن آؤٹ فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ شہری علاقوں میں نوجوان ووٹرز کی تعداد میں اضافہ اور دیہی علاقوں میں روایتی سیاسی وابستگیاں نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
اگرچہ دونوں اتحاد اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل برتری کا اندازہ ووٹنگ کے دن ٹرن آؤٹ اور آزاد امیدواروں کی کارکردگی سے ہوگا۔ بعض حلقوں میں کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے پارلیمان میں نشستوں کی تقسیم غیر متوقع بھی ہو سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے عوام سے پرامن انداز میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ نتائج شفاف اور قانون کے مطابق جاری کیے جائیں گے۔ کل کی ووٹنگ نہ صرف بنگلادیش کی سیاسی سمت کا تعین کرے گی بلکہ خطے کی مجموعی سیاسی فضا پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








