ایف بی آر سمیت اداروں کی مداخلت محدود، حکومت کا تاجروں کیلئے زبردست اصلاحاتی پیکیج

تازہ ترین

تازہ ترین

ٹیکس وصولی کی علامتی تصویر
علامتی تصویر

وفاقی حکومت نے سیلز ٹیکس کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے لیے بڑی اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ٹیکس کے عمل کو آسان بنانا، ضابطہ جاتی بوجھ کم کرنا اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

یہ اقدام کاروباری اداروں کو غیر ضروری مداخلت سے بچانے، شفافیت بڑھانے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور ٹیکس انتظامیہ کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر بنانے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

منصوبے کے تحت سیلز ٹیکس سے متعلق تمام سرکاری امور کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے گا۔ وزارتِ صنعت و پیداوار نے سفارش کی ہے کہ قانونی ذرائع سے آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری کو اضافی جانچ پڑتال سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور ایف بی آر، نیب اور ایف آئی اے کی غیر ضروری مداخلت کو روکا جائے۔ اس کے ساتھ یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے وزیرِ اعظم کے دفتر کو خصوصی اختیار دیا جائے۔

کاروباری افراد اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے اور ضابطہ جاتی مداخلت کو محدود کرنے کے اقدامات بھی تیار کیے گئے ہیں۔ وزارت نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ ایسے مالیاتی اداروں سے آنے والے فنڈز، جو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر ہیں، ان پر اضافی جانچ پڑتال نہ کی جائے۔

دستاویز کے مطابق سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے ایس ای سی پی کے قوانین میں ترامیم کی تجویز دی گئی ہے، جن کے تحت ریگولیٹڈ اداروں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے پہلے ایس ای سی پی کی منظوری لازمی ہوگی۔

دیگر اصلاحات میں ٹیکس اپیل دائر کرنے پر ریکوری کی خودکار معطلی، ودہولڈنگ ٹیکس آڈٹ کے لیے رسک بیسڈ نظام کا نفاذ، اور معمولی ٹیکس غلطیوں کو فوجداری جرائم کی فہرست سے خارج کرنا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

Related Posts