امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا افتتاحی اجلاس واشنگٹن میں ہوا جس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو، عالمی استحکام فورس کے قیام اور خطے کے امن و سلامتی پر اہم امور زیر غور آئے۔ اس دوران پاک بھارت کشیدگی کا ذکرہوا، صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں وزیراعظم شہباز شریف کو پسند کرتا ہوں ، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم شخص اور بہت بڑے فائٹر ہیں ، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دنیا کی نظر میں بھارت کے خلاف معرکہ حق کے بعد پاکستان کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ موجودہ عالمی نظام میں عسکری، معاشی اور سفارتی اعتبار سے سب سے طاقتور ریاست سمجھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ سے لے کر آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک امریکی اثرورسوخ فیصلہ کن نوعیت کا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر امریکہ کے صدر، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ جیسے بااثر اور مضبوط سیاسی شخصیت رکھنے والے رہنما، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کھل کر تعریف کریں تو یہ محض رسمی جملے نہیں ہوتے بلکہ بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک واضح پیغام سمجھے جاتے ہیں۔ یہ پیغام نہ صرف امریکی بیوروکریسی، کانگریس اور تھنک ٹینکس تک جاتا ہے بلکہ عالمی طاقتوں اور مالیاتی اداروں کے لیے بھی ایک اشارہ ہوتا ہے کہ پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔سفارتی اور سیکیورٹی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی صدر کی جانب سے مثبت ریمارکس پاکستان کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اسپیس پیدا کر سکتے ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی جیسے حساس معاملات میں اگر وائٹ ہاؤس کا لہجہ پاکستان کے حوالے سے نرم اور تعریفی ہو تو اس سے خطے میں توازن برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ دفاعی تعاون، انسداد دہشت گردی میں اشتراک، انٹیلی جنس شیئرنگ اور فوجی تربیتی پروگراموں کی بحالی جیسے امکانات مضبوط ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، جب عالمی فورمز پر پاکستان کے خلاف بیانیہ سخت کیا جاتا ہے تو امریکی انتظامیہ کا مثبت رویہ اس بیانیے کو متوازن یا مدھم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے، جو کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے نہایت اہم ہے۔
بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے 8 جنگیں رکوائیں ۔ہمیں امن کیلئے مزید محنت کرنا ہوگی ۔ بورڈ آف پیس میں بہت سے پیارے ملک شامل ہیں۔ ہم سب قیام امن کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ اہداف کے حصول کیلئے اس کے علاوہ کوئی فورم نہیں۔ میں نے پاک بھارت جنگ رکوائی، جس میں 11 طیارے گرائے گئے۔ جنگ کے دوران ڈیل کرانا مشکل کام ہوتا ہے۔ پاک بھارت جنگ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے تعلقات مضبوط ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا۔ معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی۔ غزہ کی جنگ ختم ہوچکی، حماس نے ہتھیار نہ ڈالے تو سخت ردِ عمل آسکتا ہے۔
پاکستان کے نقطۂ نظر سے غزہ کی صورتحال محض ایک جغرافیائی تنازع یا وقتی جنگی کشمکش نہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون، اخلاقی ذمہ داری اور عالمی ضمیر کے امتحان کا ایک کڑا مرحلہ ہے؛ چنانچہ غزہ بورڈ آف پیس کو معروضاتی حالات میں ایک ایسے جامع، کثیرالجہتی اور بااختیار سفارتی فورم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو نہ صرف فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور عالمی استحکام فورس کے قیام جیسے عملی اقدامات کو آگے بڑھا سکتا ہے بلکہ تنازع کے اسباب کی بنیادوں کو سمجھ کر ایک دیرپا اور قابلِ عمل سیاسی بندوبست کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔واضح رہے کہ نہ تو او آئی سی اور نہ ہی اقوامِ متحدہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کراسکیں اور غزہ کا تنازہ ہرگزرتے روز کے ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا، مگر بورڈ آف پیس کی ہیئت کو سمجھتے ہوئے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر بورڈ اراکین پرخلوص رہے تو قیام امن میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔
پاکستان کے نزدیک “غزہ بورڈ آف پیس” کی افادیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ فورم محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے امن کے عملی اہداف، جنگی فریقین پر دباؤ، معاہدوں کی پاسداری اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام کو مربوط انداز میں جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر اس پلیٹ فارم کے ذریعے اسرائیلی حملوں کی شدت کم یا ختم ہوتی ہے، انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنتا ہے اور تعمیرِ نو کا جامع منصوبہ ترتیب پاتا ہے تو یہ نہ صرف غزہ بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے استحکام کا پیش خیمہ ہوگا۔
پاکستان اس حقیقت سے بھی آگاہ ہے کہ پاک بھارت کشیدگی جیسے حساس معاملات میں عالمی طاقتوں کا لہجہ اور رویہ خطے کے توازن پر اثر انداز ہوتا ہے؛ چنانچہ اگر اسی فورم پر پاکستان کے بارے میں مثبت بیانیہ ابھرتا ہے تو یہ سفارتی اور سیکیورٹی تناظر میں ایک اہم اسٹریٹجک اسپیس پیدا کرتا ہے، جو دفاعی تعاون، انسدادِ دہشت گردی میں اشتراک اور علاقائی استحکام کے امکانات کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
اسی لیے پاکستان کا مجموعی مؤقف یہ ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس محض ایک اجلاس یا وقتی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ غزہ کے مسئلے کے حل کے لیے سب سے موزوں، جامع اور بااختیار فورم بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ صلاحیت بھی رکھتا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوا سکے ، اور وزیراعظم شہباز شریف کی اس میں شرکت نہ صرف بروقت اور ذمہ دارانہ اقدام ہے بلکہ پاکستان کی فعال، متوازن اور امن دوست خارجہ پالیسی کا واضح اظہار بھی ہے۔
سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو اور غزہ میں استحکام کے لیے ممالک اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، غزہ کی تعمیر نو کے لیے 7 ارب ڈالر سے زائد دیے جا چکے ہیں، غزہ میں تعمیر نو کے لیئے امریکا 10 ارب ڈالر دےگا، فیفا غزہ میں منصوبوں کے لیے 75ملین ڈالر جمع کرنے میں مددے کرےگا، بقول ٹرمپ، امریکا ایسا غزہ حاصل کرنا چاہتا ہے جس پر مناسب طریقے سے حکومت ہو، یہ نہ سوچیں کہ جنگ کے لیے فوج بھیجنی ضروری ہوگی، غزہ اب مزید خونریزی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں