فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کو کچلنے والا اسسٹنٹ کمشنر حاظم بھنگوار کا بھتیجا نکلا؟ جانیں اصل حقائق

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کے پوش علاقے ڈیفینس میں خیابان اتحاد پر پیش آنے والے دلخراش ٹریفک حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور سے متعلق سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حادثے میں ملوث نوجوان اصغر علی بھنگوار کراچی کے اسسٹنٹ کمشنر حاظم بھنگوار کا بھتیجا ہے۔

یوٹیوبر صدیق جان نے اپنی ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ گاڑی پر سرکاری یا اعلیٰ عدلیہ کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی جبکہ پولیس نے ملزم کو وی آئی پی پروٹوکول کے تحت اسپتال منتقل کیا۔ صدیق جان کے اس دعوے نے تیزی سے وائرل ہونے کے بعد عوامی غم و غصہ کا باعث بن گیا۔

دوسری جانب یوٹیوبر صدیق جان کے دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر حاظم بھنگوار نے ویڈیو بیان جاری کرکے اس پورے معاملے کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے بہن بھائی اب تک غیر شادی شدہ ہیں اور ان کا اس حادثے ملزم یا گاڑی سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور غلط قرار دیتے ہوئے اپنے نام کو اس سانحے سے جوڑنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ یہ حادثہ 23 فروری 2026 کی رات دیر گئے خیابان اتحاد کے قریب صبا سگنل پر پیش آیا۔ ریس لگاتی تیز رفتار کار الٹ گئی اور مخالف سمت میں کھڑے 32 سالہ فوڈ ڈیلیوری رائیڈر فرحان سے ٹکرا گئی۔

حادثے کے بعد رائیڈر کو شدید زخمی حالت میں پہلے ساؤتھ سٹی اسپتال اور پھر جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے ذمہ دار دو نوجوانوں نے موقع پر مدد کا بہانہ بنا کر زخمی کو اسپتال پہنچانے کے بجائے فرار ہو گئے۔ گاڑی اصغر علی بھنگوار کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور پولیس ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔

Related Posts