ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مشترکہ امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے۔ ان کی عمر 86 برس تھی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق گزشتہ روز انکے کمپاؤنڈ پر کیا گیا۔ امریکی صدر نے بھی بیان میں کہا کہ حملے میں خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کی معاصر تاریخ کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ 1989 سے اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے اور ملکی پالیسیوں، دفاعی حکمت عملی اور خارجہ امور پر گہرا اثر رکھتے تھے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
آیت اللہ خامنہ ای 19 اپریل 1939 کو ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے والد سید جواد خامنہ ای ایک عالمِ دین تھے۔ گھریلو ماحول سادگی اور دینی اقدار سے مزین تھا جس نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم مکتب میں حاصل کی جہاں قرآنِ مجید اور ابتدائی دینی علوم سیکھے۔ بعد ازاں مذہبی مدارس میں منطق، فلسفہ اور اسلامی فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ نوجوانی میں وہ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے عراق کے شہر نجف گئے تاہم بعد میں والد کی خواہش پر ایران واپس آ کر قم میں ممتاز علما سے کسبِ فیض کیا اور اپنی دینی تعلیم مکمل کی۔

سیاسی جدوجہد اور انقلاب میں کردار
1960 کی دہائی میں انہوں نے شاہِ ایران کے خلاف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور امام روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شامل ہو گئے۔ اس دوران انہیں کئی بار گرفتار کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔

1979 کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد وہ انقلاب کونسل کے رکن بنے اور نئے اسلامی نظام کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔
سرکاری عہدے اور قیادت
انقلاب کے بعد انہوں نے مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں جن میں اسلامی جمہوریہ پارٹی کی بنیاد رکھنے والوں میں شمولیت، نائب وزیر دفاع، اسلامی انقلاب گارڈز کے نگران، تہران کے خطیبِ جمعہ اور پارلیمنٹ کی رکنیت شامل ہیں۔

وہ 1981 سے 1989 تک ایران کے صدر رہے۔ 1989 میں روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد وہ رہبرِ اعلیٰ منتخب ہوئے اور تاحیات اس منصب پر فائز رہے۔
دفاعی پالیسی اور نظریہ
رہبرِ اعلیٰ کی حیثیت سے خامنہ ای نے ایران کی دفاعی حکمت عملی کو مضبوط کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایران کو بیرونی اور اندرونی خطرات کے مقابلے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت Islamic Revolutionary Guard Corps (آئی آر جی سی) کو نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی و معاشی میدان میں بھی مضبوط بنایا گیا۔

انہوں نے مغرب خصوصاً امریکہ کے بارے میں سخت مؤقف اپنایا اور اسے ایران کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اسلامی جمہوریہ کے تحفظ کے لیے مزاحمت ناگزیر ہے۔
داخلی چیلنجز اور تنقید
ان کی قیادت میں ایران کو متعدد داخلی چیلنجز کا سامنا رہا۔ 2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد ملک گیر احتجاجات ہوئے جبکہ 2022 میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بڑے پیمانے پر مظاہرے سامنے آئے جنہیں سختی سے کچلا گیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان نسل کے مطالبات اور اصلاحات کی خواہشات کو پوری طرح سمجھنے میں کامیاب نہ ہو سکے جس سے بعض حلقوں میں عوامی حمایت متاثر ہوئی۔
علمی و ثقافتی خدمات
سیاسی کردار کے ساتھ ساتھ خامنہ ای علمی و ادبی میدان میں بھی سرگرم رہے۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات، تفسیرِ قرآن، دعا، صبر اور ولایت جیسے موضوعات پر کتابیں اور تراجم تحریر کیے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہے۔ ان کی دہائیوں پر محیط قیادت نے ایران کی داخلی و خارجی پالیسیوں کو گہرے انداز میں متاثر کیا اور ان کے بعد ملک کی سیاسی سمت کے بارے میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








