دفاتر اور اسکولز جانے سے نجات؟ توانائی کے بحران سے بچنے کیلئے حکومت کا ورک فرام ہوم کا منصوبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی کے اثرات کے پیشِ نظر پاکستان میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف ممکنہ اقدامات اور توانائی کی بچت کے لیے قومی ایکشن پلان تیار کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس دوران دفاتر میں ورک فرام ہوم کے اختیارات پر بھی بات ہوئی ہے جس میں کارپوریٹ سیکٹر، ٹیلی کام اور آئی ٹی کمپنیوں کے لیے ہفتے میں دو دن آن لائن خدمات دینے کی تجاویز زیر غور ہیں تاکہ توانائی کی کھپت کم کی جا سکے۔

مزید برآں مارچ 2026 کے دوران دفاتر میں صرف ضروری عملے کی موجودگی اور اسٹاف کی محدود تعداد یقینی بنانے کی تجاویز بھی زیرِ بحث آئیں۔ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کے انعقاد کے امکانات پر بھی غور شروع کر دیا گیا ہے تاکہ توانائی کے استعمال کو منظم کیا جا سکے۔

حکام نے بتایا کہ تیل کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب سے متبادل راستے کے ذریعے سپلائی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آئل کمپنیوں کو اضافی اخراجات کی ادائیگی کے امکان پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

Related Posts