مشرق وسطیٰ میں کشت و خون: امریکا و اسرائیل کی ہٹ دھرمی جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے گیارہویں روز میں داخل ہو چکی ہے اور اس دوران مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے تقرر کے بعد ملک کے اندر سیاسی و عسکری ماحول میں بھی نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جس نظریاتی سوچ کے حامل سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تھے، اسی تسلسل کو نئی قیادت بھی آگے بڑھا رہی ہے، اس لیے موجودہ حالات میں ایران کی جانب سے کسی نرم رویے کی توقع عبث ہوگی، کیونکہ   جب ایک ملک کو اپنے وجود کو خطرہ لاحق ہو تو اس کے ردعمل میں مزید سختی اور مزاحمت کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اس جنگ کو جتنی دیر تک ضروری ہو جاری رکھے گا، جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ یہ جنگ “جلد ختم” ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ اس ہفتے کے اندر ختم نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب تک ایران کے پانچ ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور ایران کی بحریہ، فضائیہ اور میزائل لانچرز کا بڑا حصہ تباہ کیا جا چکا ہے، لیکن اس کے باوجود امریکا ابھی “حتمی فتح” حاصل کرنا چاہتا ہے۔جنگ کے باوجود ایران کے اندر مزاحمتی فضا کمزور نہیں پڑی۔ تہران میں لاکھوں افراد نے ریلیاں نکال کر نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی حمایت کا اظہار کیا اور اسے ایران کے خلاف حملہ آور ممالک کے لیے ایک واضح پیغام قرار دیا گیا۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کو تقسیم کرنے اور اس کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

ایک تذبذب کا عالم ہے اور محسوس ایسا ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی الجھن کا شکار ہیں جس کا سبب یہ ہے کہ صدر کی نظر میں ایران کی 90فیصد عسکری صلاحیت کم ہوگئی ہے، اس کے برعکس ایران مسلسل بڑے سے بڑا میزائل داغتا جارہا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کے نقصانات جو کہ بہت زیادہ سینسر زدہ ہیں، پھر بھی تل ابیب اور حیفہ میں بھاری نقصان بتایا جاتا ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران میں رجیم چینج کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟تو اس میں مختلف آراء سامنے آتی ہیں لیکن راقم الحروف کی رائے میں رجیم چینج اگر پہلے ہونے کے امکانات بھی تھے تو اب ناممکن نظر آتا ہے کیونکہ ایرانی قوم امریکااور اسرائیل جیسی بیرونی طاقتوں کی بمباری اور تباہی سے ایرانی قوم کی حب الوطنی جاگ اٹھی ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ اب رجیم چینج کوئی آسان بات نہیں ہوگی۔ لہٰذا اب اگر صورتحال مزید خراب ہو، مثلاً بلوچوں اور کردوں کے تعصب کو سی آئی اے اور موساد کے ذریعے  ہوا دی جائے تو خانہ جنگی کی صورت پیدا ہوسکتی ہے لیکن اس میں بھی سبقت لینے والا گروہ وہی ہوگا جو سپریم لیڈر کے پیروکاراور حمایتی  ہوں گے۔

جنگی تھیٹر میں بھی حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ ایران کے مغربی شہر اراک میں ایک رہائشی عمارت پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اسی طرح مشرقی تہران میں رہائشی علاقوں پر حملوں میں کم از کم چالیس افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایک ہزار دو سو پچپن سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً دس ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے شہری آبادی پر حملوں کے جواب میں “سخت ردعمل” کا اعلان کیا ہے۔

ایران نے بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے شہر حیفہ میں تیل اور گیس ریفائنری اور ایندھن کے ذخائر کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے فائر کیے گئے میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ تل ابیب کے قریب ایک تعمیراتی مقام پر میزائل کے ٹکڑوں سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جس کے بعد ایرانی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد گیارہ تک پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی اڈوں یا تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد ان مراکز کو غیر مؤثر بنانا ہو سکتا ہے جہاں سے ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی یا کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر خلیجی ممالک براہِ راست اس جنگ میں شامل ہوئے تو خطے میں عوامی ردعمل شدت اختیار کر سکتا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ اور عرب ممالک میں واقع اپنے اڈوں سے ایران کو نشانہ بنانا دراصل ایک ایسی سازش تھی جس کے نتیجے میں ایران کے ان اڈوں پر حملے اور میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جانا ایک یقینی امر تھا جو ایران نے کر دکھایا، تاہم اس سازش کا دوسرا حصہ روبہ عمل نہ ہوسکا کیونکہ سعودی عرب، قطر اور یو اے ای جیسے ممالک نے ایران کے حملوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا اور سخت بیانات بھی جاری کیے، تاہم ایران کوخود یا امریکا کی مدد سے نشانہ  بنانا مناسب نہیں سمجھا، جس سے خطے میں جنگ کے شعلے مزید شدومد کے ساتھ بھڑک سکتے تھے اور آج معاشی سطح پر مشرق وسطیٰ کو جس تباہی و بربادی کا سامنا ہے  ، صورتحال اس سے کہیں بد تر ہوسکتی تھی ، جیسا کہ اسرائیل اور امریکا نے خواب دیکھ رکھے تھےلیکن آج یہ سازش بے نقاب ہوچکی ہے اور خطے کی خوش قسمتی یہ رہی کہ تمام تر ممالک جنگ کی آگ میں کودنے سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہیں جو جنگ کے شعلوں کو آہستہ آہستہ بجھنے پر مائل کرسکتی ہے۔

Related Posts