قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بنگلہ دیش سے 3میچز کی ون ڈے سیریز ہارنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل ‘سرجری’ ٹیم کی نہیں بلکہ سلیکشن کمیٹی کی ہونی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق اپنے حالیہ بیان میں سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے تھی اور اس کے بعد بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں بھی پاکستان کو 2-1 سے شکست ہوئی، جس کے بعد کیے گئے فیصلوں پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
بیان میں سابق کپتان نے کہا کہ میرے خیال میں اس صورتحال پر سلیکشن کمیٹی کو افسوس کرنا چاہیے کیونکہ ٹیم کے انتخاب میں درست سمت نظر نہیں آتی۔ سلیکشن کمیٹی کو اندازہ نہیں کہ کس کھلاڑی کو کس فارمیٹ میں کپتان بنایا جائے، بلکہ جلد بازی میں فیصلے ہوجاتے ہیں۔
سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا کہ ان کے مطابق ‘سرجری’ کے نام پر سینئر کھلاڑیوں کو باہر بٹھا دیا گیا حالانکہ ان میں سے کئی کی ون ڈے کرکٹ میں بہت اچھی کارکردگیاں موجود تھیں۔اس کے برعکس چند ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا گیا جنہوں نے مشکل سے چند ڈومیسٹک یا فرسٹ کلاس میچز کھیلے ہوں گے۔
شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ جب ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار ہی اس سطح کا نہیں تو ایسے کھلاڑی اچانک قومی ٹیم میں آ کر کس طرح اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ اگر قومی ٹیم میں واقعی بہتری لانا مقصود ہے تو اصل سرجری سلیکشن کمیٹی اور اس کے نظام میں کرنا ہوگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








