بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان میں پاکستان دشمن حسینہ واجد کی روح لوٹ آئی، پاکستان کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کردیا۔
طارق رحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں 25 مارچ 1971 کو پیش آنے والے ایک سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔
اس پوسٹ پر مختلف تبصرے سامنے آ رہے ہیں کیونکہ تاریخی طور پر طارق رحمان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) پاکستان کے بارے میں نسبتاً نرم رویہ اختیار کرتی رہی ہے۔
طارق رحمان نے ایکس پر لکھا کہ 25 مارچ 1971 کو نسل کشی کے دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں یہ دن سب سے شرمناک اور سفاک دنوں میں شمار ہوتا ہے۔
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے 55 سال قبل پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس تاریک رات کو پاکستان کی افواج نے آپریشن سرچ لائٹ کے نام پر بنگلہ دیش کے نہتے لوگوں کے خلاف تاریخ کی بدترین نسل کشی میں سے ایک کا ارتکاب کیا۔
اپنی پوسٹ میں طارق رحمان نے لکھا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی، پلخانہ اور راجرباغ پولیس لائنز سمیت مختلف مقامات پر اساتذہ، دانشوروں اور بے گناہ شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں قتل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 25 مارچ 1971 کا واقعہ ایک سوچا سمجھا قتل عام تھا۔
طارق رحمان کے مطابق اسی رات چٹاگانگ میں آٹھویں مشرقی بنگال ریجمنٹ نے مسلح مزاحمت کا آغاز کیا، جس کے بعد آزادی کے لیے نو ماہ طویل مسلح جدوجہد شروع ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی نسلوں کو آزادی کی قدر سمجھانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں 25 مارچ 1971 کے واقعات سے آگاہ کیا جائے۔
طارق رحمان کی یہ پوسٹ پاکستان میں بھی زیر بحث ہے، تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے تاحال اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








