پاکستان انجینئرنگ کونسل نے ملک کے نوجوان انجینئرز کو خود مختار بنانے اور عالمی منڈی تک رسائی دینے کے لیے ‘گلوبل انجینئرنگ فری لانس انیشی ایٹو’ کا آغاز کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس پروگرام کے تحت 5 ہزار انجینئرز کو بین الاقوامی سطح پر فری لانسنگ کے ذریعے کام کرنے کی تربیت دی جائے گی، اس منصوبے کے تحت انجینئرز کو آن لائن تربیت فراہم کی جائے گی، جس میں انہیں بین الاقوامی فری لانس پلیٹ فارمز پر کام کرنے کے طریقے سکھائے جائیں گے۔
تربیت کے دوران شرکا کو ایک مضبوط پورٹ فولیو بنانے اور اپنا پہلا فری لانس پروجیکٹ حاصل کرنے کے حوالے سے خصوصی رہنمائی دی جائے گی۔ یہ آن لائن کورس رواں سال اپریل کے تیسرے ہفتے میں شروع کیا جائے گا۔
چیئرمین پی ای سی وسیم نذیر کے مطابق انجینئرنگ کا شعبہ تیزی سے ڈیجیٹل اور ریموٹ ورک کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اس پروگرام میں شرکا کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی کیریئر اسیسمنٹ بھی کی جائے گی تاکہ انہیں ان کی مہارت کے مطابق بہترین مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
وسیم نذیر نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے پاکستان کی انجینئرنگ خدمات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانے اور نوجوان انجینئرز کو عالمی مارکیٹ کے برابر لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








