وفاقی حکومت نے عوام پر عالمی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو سستا ایندھن فراہم کرنے کے لیے حکومت دو متبادل تجاویز پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ نے 300 ارب روپے کی ٹارگٹڈ سبسڈی اسکیم تیار کر رکھی ہے جس کا مقصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ براہِ راست صارفین پر کم کرنا ہے۔ اسکیم کو عملی شکل دینے کے لیے وفاق نے چاروں صوبوں سے مالی تعاون کی درخواست بھی کی ہے۔
وفاقی حکومت نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بجٹ سے تقریباً 154 ارب روپے کی رقم مختص کریں تاکہ عوام کو ایندھن پر اضافی بوجھ سے بچایا جا سکے۔
زیرِ غور دو آپشنز؛
عالمی منڈی میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صارفین تک براہِ راست منتقل کر دی جائیں۔
دو اور تین پہیہ گاڑیوں (موٹر سائیکل اور رکشہ) کو محدود مقدار میں سستا ایندھن فراہم کیا جائے جس میں موٹر سائیکل کے لیے ماہانہ 20 لیٹر اور رکشوں کے لیے 30 لیٹر تجویز کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس اسکیم کو 6 ہفتوں میں تقریباً 300 ارب روپے کی ضرورت ہوگی۔ حتمی فیصلہ صدرِ مملکت، وزیراعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








