بلوچستان میں بارشوں سے حیرت انگیز تبدیلی! کسان و زمیندار خوش؛ تفصیلات سامنے آ گئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بلوچستان میں حالیہ بارشوں اور ژالہ باری نے خشک سالی کے طویل عرصے کے بعد کسانوں اور باغبانوں کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ اور ڈیموں میں پانی کا بھر جانا صوبے کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے جس سے نہ صرف فصلوں کی پیداوار میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے بلکہ مویشی پالنے والوں کے لیے بھی سہولتیں بڑھ گئی ہیں۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی یہ بارشیں زراعت اور لائیو اسٹاک کی معیشت کے لیے ایک نعمت ثابت ہو رہی ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو صوبے کے بیشتر حصے زرعی لحاظ سے مزید خوشحال ہو سکتے ہیں۔

کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، ژوب، زیارت، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، موسیٰ خیل، خضدار، مستونگ، نوشکی، چاغی، دکی، ہرنائی، مکران ڈویژن، نصیر آباد ڈویژن اور دیگر علاقوں میں ہونے والی بارشوں سے نہ صرف زیر زمین پانی کی سطح بہتر ہوئی ہے بلکہ ڈیموں میں بھی پانی ذخیرہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ دیہی علاقوں میں کنوؤں، کاریزوں اور ٹیوب ویلوں میں پانی کی مقدار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

زمینداروں کا کہنا ہے کہ ان بارشوں کے بعد گندم، سبزیوں، پھلوں اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں بہتری کی توقع ہے۔ باغبانوں کے مطابق سیب، انگور، خوبانی، آڑو اور دیگر پھلوں کے باغات کو بھی فائدہ پہنچے گا جبکہ چراگاہوں میں گھاس اگنے سے مویشی پالنے والوں کو سہولت ملے گی۔

عوام نے بھی حالیہ بارشوں کو خوش آئند قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ پانی کی کمی کم ہوگی اور زرعی معیشت کو سہارا ملے گا۔ بلوچستان کی معیشت زیادہ تر زراعت اور لائیو اسٹاک پر منحصر ہے اس لیے بارشوں سے پیدا ہونے والی یہ بہتری ہزاروں خاندانوں کے لیے خوشخبری کے مترادف ہے۔

Related Posts