امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے 4خلاباز آرٹیمس 2 مشن کے تحت چاند کے گرد پرواز اور زمین سے سب سے زیادہ دوری کا ریکارڈ قائم کرنے کے بعد سمندر میں اتر گئے، جنہیں ریسکیو ٹیموں نے نکال لیا۔
تفصیلات کے مطابق چاروں خلا بازوں نے دس روزہ کامیاب چاند مشن کے بعد جنوبی کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحر الکاہل میں بحفاظت لینڈنگ کی۔ ان کا خلائی جہاز زمینی ماحول میں تقریباً 25 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے داخل ہوا جبکہ خلا بازوں نے پیراشوٹ کے ذریعے سان ڈیاگو کے جنوب مغرب میں لینڈنگ کا عمل مکمل کیا۔
ریسکیو ٹیموں نے تیزرفتاری اور مستعدی کے ساتھ خلابازوں کو نکال لیا۔ اس سے قبل آرٹیمس 2 مشن کے دوران چاروں خلا بازوں نے زمین سے تقریباً 6 لاکھ 85 ہزار میل کا سفر کیا اور چاند کے گرد پرواز کرتے ہوئے زمین سے انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ دوری تک جانے کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ مشن اپالو پروگرام کے بعد نصف صدی میں پہلی بار انسانوں کو چاند کے گرد لے گیا تھا۔
ناسا کے خلائی جہاز نے چاند کے عقبی حصے کے قریب سے گزر کر تصاویر لیں اور سائنسی مشاہدات کیے۔ 10روزہ مشن میں خلائی جہاز کے لائف سپورٹ سسٹمز، نیویگیشن، مواصلاتی نظام اور انسانی پروز کے تکنیکی پہلوؤں کی جانچ ہوئی۔ خلا بازوں نے چاند کے مدار کے قریب پرواز کے دوران اہم ڈیٹا حاصل کیا اور مستقبل کی لینڈنگ کیلئے راستوں کا جائزہ بھی لیا۔
خلا باز اپنے مشن کے دوران لی گئی چاند اور زمین کی تصاویر بھی ناسا کو ارسال کرتے رہے، دراصل اس مشن کو چاند پر انسان کی آئندہ لینڈنگ اور مستقل قمری اڈے کی تایری کیلئے اہم تجرباتی مرحلہ قرار دیاجارہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آرٹیمس 2 کی کامیابی سے مستقبل کے چاند مشن اور مریخ کی مہمات کیلئے نئی راہیں ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








