آبنائے ہرمز کی طرف بڑھتے امریکی جہاز نے اسلام آباد مذاکرات خطرے میں ڈال دیے، ایران کا سخت انتباہ

تازہ ترین

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی طرف ایک بار پھر امریکی نقل و حرکت، فائل فوٹو

اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جہاں آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے ایک تازہ واقعے نے خطے کی صورتحال کو نہایت حساس بنا دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی فورسز نے ایک امریکی جنگی جہاز (ڈسٹرائر) کی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہوئے اپنے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا کہ مذکورہ جہاز آبنائے ہرمز کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کو ایران نے اپنی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا۔

ذرائع کے مطابق ایران نے فوری طور پر سفارتی چینلز کو متحرک کیا اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک ایک سخت پیغام پہنچایا۔ اس پیغام میں واضح طور پر کہا گیا کہ اگر امریکی ڈسٹرائر نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی تو اسے محض 30 منٹ کے اندر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس سخت وارننگ کے بعد امریکی جہاز نے اپنی نقل و حرکت محدود کر دی، جبکہ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاز نے ممکنہ طور پر اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔ تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین اس واقعے کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور پاکستان سمیت چند ممالک فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ فوری تصادم ٹلتا دکھائی دے رہا ہے، تاہم اس نوعیت کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلیج میں صورتحال بدستور نازک ہے، اور کسی بھی غلط اندازے یا قدم سے بڑے تصادم کا خطرہ موجود ہے۔

Related Posts