ایسا پوپ قبول نہیں! صدر ٹرمپ نے کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا کو جرائم پیشہ کہہ دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیتھولک مسیحیوں مذہبی پیشوا پوپ لیو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے پوپ کو قبول نہیں کر سکتے جو ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے کو درست سمجھے۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوپ لیو چہار دہم کے بڑے مداح نہیں ہیں خاص طور پر اس وقت جب دنیا بھر کے کیتھولک رہنما نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران امن کی اپیل کی تھی۔

ستر سالہ امریکی پوپ لیو نے ہفتے کے روز عوام کے سامنے سیاسی رہنماؤں سے تشدد ختم کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں عبادت کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خود پرستی اور دولت کی پوجا کافی ہو چکی ہے اب طاقت کے مظاہرے بند ہونے چاہئیں اور جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔

ٹرمپ نے میری لینڈ میں جوائنٹ بیس اینڈریوز پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوپ لیو کو پسند نہیں کرتے۔ ان کے مطابق پوپ ایک نہایت لبرل سوچ رکھنے والے شخص ہیں اور جرائم کو روکنے کے معاملے میں سنجیدہ مؤقف نہیں رکھتے۔

بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام کے ذریعے اپنے بیان کو مزید واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے پوپ کو قبول نہیں کر سکتے جو ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے کو درست سمجھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پوپ لیو جرائم کے معاملے میں کمزور ہیں اور خارجہ پالیسی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیو کا انتخاب صرف اس لیے ہوا کیونکہ وہ امریکی ہیں اور شاید یہ سوچا گیا کہ اس طرح صدر ٹرمپ سے بہتر طریقے سے نمٹا جا سکے گا۔

صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر وہ خود وائٹ ہاؤس میں نہ ہوتے تو لیو کبھی ویٹیکن تک نہ پہنچ پاتے جبکہ بعد میں ٹرمپ نے اپنی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر بھی شیئر کی۔

اس تصویر میں وہ سرخ اور سفید لباس پہنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے ایک شخص کو شفا دیتے نظر آتے ہیں جبکہ ان کے کندھے کے پیچھے امریکی پرچم بھی نمایاں ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس نے مصنوعی ذہانت سے بنی تصاویر شیئر کی ہوں۔ اس سے پہلے بھی ایسی تصاویر سامنے آ چکی ہیں جن میں صدر کو پوپ کے لباس میں دکھایا گیا تھا۔

Related Posts