پنجاب کے اسپتال موت باٹنے لگے! تونسہ میں 331 بچے ایڈز کا شکار؛ خوفناک حقیقت بے نقاب

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ بی بی سی)

پنجاب کے شہر تونسہ میں ایچ آئی وی کے ایک تباہ کن پھیلاؤ نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے جہاں سرکاری اسپتال میں معمول کے طبی علاج کے دوران مبینہ طور پر آلودہ انجیکشن لگنے سے متعدد بچے متاثر ہوئے۔

بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندان اپنے کم عمر بچوں کے کھونے اور زندگی بھر کی بیماری کے ساتھ جینے کی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔

نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران کم از کم 331 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ پھیلاؤ تونسہ کے ٹی ایچ کیو اسپتال سے جڑا ہوا ہے جہاں مبینہ طور پر غیر محفوظ انجیکشن کے طریقہ کار عام تھے۔

حکام نے مارچ 2025 میں اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو معطل کیا اور اصلاحات کا وعدہ کیا تاہم بعد کی خفیہ رپورٹنگ میں یہ انکشاف ہوا کہ خطرناک طریقے اب بھی جاری رہے۔

بی بی سی آئی کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک ہی سرنج سے متعدد ڈوز والی وائلز استعمال کی جا رہی تھیں ایک ہی بوتل کی دوا مختلف بچوں کو دی جا رہی تھی اور عملہ بعض اوقات بغیر جراثیم سے پاک دستانوں کے انجیکشن لگا رہا تھا۔ اگرچہ دیواروں پر محفوظ طبی طریقوں کے پوسٹرز آویزاں تھے مگر زمینی حقائق میں شدید غفلت اور انفیکشن کنٹرول کی مکمل خلاف ورزی نظر آئی۔

ماہرین کے مطابق شواہد کی جانچ کے بعد یہ واضح ہوا کہ اگرچہ نئی سوئی لگائی جائے لیکن استعمال شدہ سرنج کا جسم بھی ایچ آئی وی منتقل کر سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مسئلہ پاکستان کے صحت کے نظام میں گہری کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں احتساب اور حفاظتی اصولوں پر عملدرآمد انتہائی کمزور ہے۔

صغرا جیسے خاندانوں کے لیے یہ المیہ انتہائی ذاتی اور دردناک ہے جنہوں نے اپنے آٹھ سالہ بیٹے محمد امین کو کھو دیا اور اب اپنی دس سالہ بیٹی اسماء کی دیکھ بھال کر رہے ہیں جو ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔ ان کی کہانی ادارہ جاتی ناکامیوں کے انسانی اثرات کو نمایاں کرتی ہے اور فوری اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

بی بی سی رپورٹ کے مطابق اس بحران کی اصل حقیقت یہی ہے کہ اصلاحات کے وعدوں کے باوجود غیر محفوظ طبی طریقے جاری رہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی حالیہ تاریخ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے سب سے تشویشناک پھیلاؤ میں سے ایک سامنے آیا۔

Related Posts