سابق وزیرِاعظم عمران خان کی قید سے متعلق قانونی معاملات ایک بار پھر شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے اڈیالہ جیل میں موجودگی کے دوران عمران خان کی جانب سے دستخط شدہ اہم قانونی دستاویزات، بشمول پاور آف اٹارنی فوری طور پر پیش کرنے اور واپس فراہم کرنے کا مطالبہ دوبارہ دہرایا ہے۔
وکیل کی جانب سے 15 اپریل 2026 کو ایک تازہ خط بھیجا گیا ہے جس میں انہوں نے پہلے سے بھیجے گئے دستاویزات کا حوالہ دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کاغذات 9 اپریل کو سہ پہر 3 بج کر 13 منٹ پر جیل حکام کے حوالے کیے گئے تھے تاہم جب وہ 13 اپریل کو گیٹ نمبر 5 پر خود ان دستاویزات کی واپسی کے لیے پہنچے تو عملے نے بتایا کہ متعلقہ فائلیں موجود نہیں ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کے قانونی دستاویزات پر دستخط کا معاملہ، وکیل خالد یوسف چوہدری نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو دوبارہ خط ارسال کر دیا، پاور آف اٹارنی اور دیگر قانونی دستاویزات دوبارہ جیل حکام کو بھجوا دی گئیں، خط میں لکھا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے فوری دستخط کروا کر 24 گھنٹوں میں… pic.twitter.com/5it7Pzr0pO
— Hussain Ahmed Ch (@HussainAhmedCh8) April 15, 2026
خالد یوسف چوہدری نے اس صورتحال کو ایک سنگین انتظامی غفلت اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تاخیر کے باعث عمران خان کے منصفانہ ٹرائل کے حق کو نقصان پہنچ رہا ہے اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی آخری مدت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے جیل حکام کو 24 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام مطلوبہ دستاویزات فوری طور پر عمران خان کو دکھا کر دستخط کروائے جائیں اور واپس وکیل کے حوالے کی جائیں۔ اس حوالے سے خط کی نقول چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے رجسٹرار، اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار، آئی جی پنجاب جیل خانہ جات، ایس پی صدر سرکل راولپنڈی اور شریک وکیل اعزار کرامت بھنڈاری کو بھی ارسال کی گئی ہیں جس سے قانونی سطح پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
ایم ایم نیوز کو دستیاب معلومات کے مطابق یہ معاملہ اس رپورٹ کے فائل ہونے تک تاحال حل نہیں ہو سکا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








