اساتذہ کے لیے نیا معیارِ انتخاب! سندھ میں اساتذہ کیلئے ٹیچنگ لائسنس لازمی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سندھ ٹیچرز ایجوکیشن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے صوبے بھر میں اساتذہ کی بھرتی کے لیے تدریسی لائسنس ٹیسٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے جس کے بغیر اب کسی امیدوار کو تقرری کے لیے اہل نہیں سمجھا جائے گا۔

یہ فیصلہ اتھارٹی کے 19ویں بورڈ اجلاس میں کیا گیا جو سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی سمیت بورڈ کے دیگر ارکان اور متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔

وزیر تعلیم نے اس موقع پر کہا کہ اب صرف وہ امیدوار بھرتی کے لیے اہل ہوں گے جو تدریسی لائسنس کا امتحان کامیابی سے پاس کریں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ کی تربیت اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور سندھ حکومت تعلیمی اصلاحات کے لیے مثبت اور ترقی پسند اقدامات کر رہی ہے۔

بورڈ اجلاس میں تدریسی لائسنس پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

مجوزہ تبدیلیوں کے مطابق سیکنڈری سطح پر نئے مضامین کی مہارتیں شامل کی جائیں گی ایک سالہ بی ایڈ کرنے والے امیدواروں کے لیے برجنگ کورس متعارف کرایا جائے گا اور ابتدائی بچپن کی تعلیم (ECCE) کو بھی لائسنسنگ نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔

مزید یہ کہ ECCE ڈپلومہ فراہم کرنے والے اداروں کی منظوری کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو نصاب، تعلیمی معیار اور تربیتی سہولیات کا جائزہ لے کر اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے سفارشات دے گی۔

حکام نے بتایا کہ ابتدائی سطح کا تدریسی لائسنس ٹیسٹ پہلے ہی کامیابی کے ساتھ لیا جا چکا ہے جبکہ اگلے مرحلے میں سیکنڈری سطح (چھٹی سے بارہویں جماعت) کا امتحان ستمبر میں منعقد کیا جائے گا۔

Related Posts